کراچی(امت رپورٹ) گل پلازہ سانحہ کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کے انتظار میں ملبے پر بیٹھے ہیں،اتوار کے روز آہ بکار کرتے دکھائی دیے تاہم پیر کے روز ریسکیو اداروں کی جانب سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا تو لواحقین آنکھوں میں اداسی اور چہرے پر مایوسی لئے بیٹھے،اس دوران موقع پر موجود ’’امت‘‘ کے فوٹو گرافر متین خان نے ان سے گفتگوکی۔اس موقع پر ایک خاتون نے بتایا کہ دلہن سمیت 6 جوان بچیاں گل پلازہ گئی تھیں ،گھر میں شادی کی تیاری چل رہی تھی اور اس سلسلے میں ہی جہیز کا سامان خریدنے کیلئے یہ سب آئی تھیں،خاتون نے بتایا کہ وہ پرانا گولیمار کی رہائشی ہیں اور آگ کی اطلاع ملتے ہی وہ یہاں آگئیں،ان کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوا،امت سے بات چیت کرتے ہوئے مذکورہ خاتون کی آواز بھر آئی اور انہوں نے کہا کہ ہم انتظار میں بیٹھے ہیں دیکھیں کیا خبر آتی ہے،دوسری طرف عبدالرشید اپنے دو عزیز و اقارب کے ہمراہ کرب زدہ بیٹھے ملبے کی طرف بے بسی کے عالم میں دیکھ رہے تھے،امت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ان کا 16 سالہ بیٹا فیضان پلازہ کے اندر ہے،جس کے انتظار میں وہ ہفتہ کی شب سے یہاں موجود ہیں،عبدالرشید نے بتایا کہ میرا بیٹا فیضان اور میرا بھتیجا پلازہ کے اندر ساتھ پھنسے ہوئے تھے ،اس دوران ایک دھماکہ ہوا تو دونوں الگ ہوگئے،بھتیجا باہر نکل آیا مگر بیٹا فرسٹ فلور کی مسجدمیں چلا گیا،بیٹے نے فون پر بتایا کہ ہم مسجد میں ہیں ہمارے ساتھ کچھ نوجوان اور بچے بھی ہیں،عبدالرشید کے مطابق پڑوس کے دو بچے بھی لاپتہ ہیں جو یہاں ملازمت کرتے تھے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos