میگزین رپورٹ :
سانحہ گل پلازہ کی عالمی سطح پر بھی بازگشت ہے۔ جب کہ عالمی ماہرین، بشمول فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ کراچی کی 80 فیصد سے زائد تجارتی مراکز ’’فائرسیفٹی سسٹم‘‘ کے فقدان کے باعث ’’ٹائم بم‘‘ بن چکے ہیں۔ ایسوسی ایٹ پریس، انڈی پینڈنٹ اور اکناماک ٹائمز سے وابستہ حفاظتی امورکے ماہرین نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی ہولناکیوں اورکراچی میں تجارتی مراکز کے ناقص فائر سیفٹی نظام کے حوالے سے لزرہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
ماہرین نے گل پلازہ کو ’’فائر ٹریپ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمارت کا ڈیزائن ایسا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں دھواں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ عمارت میں ہوا کی آمد و رفت کا نظام نہ ہونے کے برابر تھا، جس کی وجہ سے بیشتر اموات دم گھٹنے سے ہوئیں اور فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ عمارت میں ریسکیو آپریشن کی ناکامی کی وجہ گنجائش سے زیادہ دکانوں کی موجودگی کی بنی۔ یہ عمارت اصل میں 400 دکانوں کے لیے منظور کی گئی تھی، لیکن وہاں 1200 سے زائد دکانیں بنائی گئی تھیں۔
عالمی ماہرین نے اس بات پرحیرت کا اظہارکیا ہے کہ اتنے بڑے تجارتی مرکز میں آگ بجھانے کا بنیادی نظام بھی موجود نہیں تھا۔ ستر سے زائد افراد آگ کی زد میں اس لئے آئے کیونکہ عمارت میں ہنگامی اخراج کے لیے کوئی مخصوص راستہ ہی نہیں تھا۔ عمارت میں نہ تو آگ لگنے کی اطلاع دینے والا کوئی خودکار نظام تھا اور نہ ہی آگ بجھانے والے فوارے موجود تھے۔ پلاسٹک، کپڑے اور کیمیکلز کی بھاری مقدار میں موجودگی عمارت میں تھرڈ ڈگری فائر کا باعث بنی جس کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ مٹیریل اور اسٹرکچرل فیلیئر کا مجموعہ تھا۔ پلازہ کے گراؤنڈ فلور پرکپڑے کی تھوک مارکیٹ تھی، جہاں سینتھٹک اور پولیئسٹر کپڑوں کے بڑے ذخائرموجود تھے۔ یہ مواد انتہائی تیزی سے آگ پکڑتا ہے اور بجھانا مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دکانوں میں بڑی مقدار میں پلاسٹک کے کھلونے، پرفیومز اور باڈی اسپرے موجود تھے، ان کھلونوں کے پگھلنے اور بوتلوں کے پھٹنے سے آگ فائر بالز کی صورت میں اوپرکی منزلوں تک پہنچی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کا ڈیزائن ایسا تھا کہ اس میں ہوا کی آمد و رفت کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔ ائیرکنڈیشننگ کے چکر میں کھڑکیاں مستقل بند کر دی گئی تھیں۔ جب گراؤنڈ فلور پر آگ لگی تو دھواں اور تپش باہر نکلنے کے بجائے سیڑھیوں اورلفٹ کے راستوں سے اوپر کی طرف گیا۔ اس عمل کو سائنسی زبان میں Effect Chimney کہتے ہیں، جس نے اوپر کی منزلوں کو چند ہی منٹوں میں جہنم بنا دیا۔ عالمی میڈیا نے ہائی لائٹ کیا کہ پہلی کال رات دس بج کر سولہ منٹ پر موصول ہوئی، لیکن پانی کی کمی اور ہجوم کی وجہ سے آپریشن میں گھنٹوں کی تاخیر ہوئی۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ کراچی کے 90 فیصد سے زائد شاپنگ مالز میں فائر ہائیڈرنٹس اور اسپرنکلر سسٹم سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ گل پلازہ میں پلاسٹک، الکحل (پرفیومز) اور سینتھٹک کپڑے کے امتزاج نے اسے ایک ایسا کیمیکل بم بنا دیا تھا جسے بجھانا کسی بھی عام فائر فائٹنگ فورس کے لیے ناممکن تھا۔
دوسری جانب ماہرین نے کراچی کی دیگر مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کے حوالے سے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق گل پلازہ جیسا سانحہ کسی بھی وقت صدر، کلفٹن یا طارق روڈ کے مصروف مراکز میں ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہاں بھی فائر سیفٹی کے بنیادی آلات موجود نہیں۔ کراچی کی پرانی مارکیٹوں کی عمارتیں زیادہ تپش برداشت کرنے کے قابل نہیں رہی ہیں۔
2024ء میں ہونے والے ایک سرکاری آڈٹ کے مطابق کراچی کی اہم شاہراہوں پر موجود 266 شاپنگ مالز میں سے صرف 6 میں فائر سیفٹی کے مکمل انتظامات موجود تھے۔ گل پلازہ واقعہ کو ریگولیٹری فیلیئر قرار دیا گیا ہے۔ جہاں مقامی حکومت کی جانب سے نقشوں کی خلاف ورزی پرکوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
غیر ملکی ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے سے ہائیڈروجن سائنائیڈ اور ڈائی آکسنز جیسی انتہائی زہریلی گیسیں پیدا ہوئیں، جنہوں نے آگ کی لپٹوں سے پہلے ہی انسانی زندگیوں کا خاتمہ کرنا شروع کردیا۔ یہ گیس کاربن مونو آکسائیڈ سے 35 گنا زیادہ خطرناک ہوتی ہیں، جو انسان کو بھاگنے یا بچنے کا موقع دیے بغیر سیکنڈوں میں بے ہوش کردیتی ہیں۔
یہی وجہ تھی کہ زیادہ تر اموات جلنے کے بجائے دم گھٹنے باعث ہوئیں۔ جب درجہ حرارت ایک خاص حد سے بڑھا تو فلیش اوور کے عمل نے عمارت کی رہی سہی آکسیجن بھی کھینچ لی، جس سے وہاں موجود لوگوں کے پھیپھڑے فوری طور پر جھلس گئے اور حرکت کرنے کی سکت ختم ہو گئی۔
گاڑھے کالے دھوئیں نے بصارت کو مکمل طور پر ختم کردیا، جس کے نتیجے میں لوگ ہنگامی راستے تلاش کرنے میں ناکام رہے اور خوف و ہراس کی حالت میں اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس دھوئیں کے اثرات اب بھی ایم اے جناح روڈ کے گرد و نواح میں موجود ہیں، اس لیے شہریوں کے لیے ماسک کا استعمال ناگزیر ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos