National flags gallery at the entrance to UN

بورڈآف پیس کے چارٹرمیں غزہ کاذکرنہیں۔ عالمی میڈیااور سفارتی ذرائع کا انکشاف

 

امریکی صدرٹرمپ نے ایک سالہ حکومت پرنیوزکانفرنس میں ایک ایسے موضوع پرلب کشائی کردی جس نے عالمی سطح پر بحث چھیڑدی ہے۔ان کا کہناتھاکہ میری خواہش ہے کہ اقوام متحدہ اس حوالے سے مزید کچھ کر سکتی۔ کاش ہمیں بورڈ آف پیس کی ضرورت نہ پڑتی، بلکہ اقوام متحدہ کی ضرورت ہوتی، اور، میں نے جو بھی جنگیںختم کرائیں، اقوام متحدہ نے کبھی کسی میں میری مدد نہیں کی۔

 

غزہ بورڈآف پیس کے بارے میں ٹرمپ کے ریمارکس نے تجزیہ کاروں کے کان کھڑے کردیئے ہیں اور ماہرین چوکناہوگئے ۔ عالمی میڈیااس بارے میں کہہ رہاہے کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس کو درحقیقت ،اقوام متحدہ جیسے ادارے کے طورپر ہی لاناچاہتے ہیں۔

 

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ تجویز کہ ان کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے ان خدشات کو بڑھا چکی ہے کہ یہ ادارہ جس کا مقصد غزہ کی تعمیر نو کی نگرانی کرنا ہے اور جس کی وہ غیر معینہ مدت تک سربراہی کریں گے، غزہ کے بجائے عالمی امن برقرار رکھنے کے لیے 80 سال قبل قائم کی گئی تنظیم کو ہٹانے کی کوشش کرنے کاذریعہ بن جائے گی۔سی این این کے مطابق ،ٹرمپ کے خطاب سے پہلے، کچھ سفارت کاروں کو بورڈ کی ممکنہ رکنیت پر پہلے سے ہی بے شمار تحفظات موجودتھے، اوریہ حقیقت کہ ایک مستقل نشست 1 ارب ڈالر میں برائے فروخت ہے۔

 

نشریاتی ادارے کا کہناہے کہ غزہ امن بورڈ چارٹر کے مطابق، ٹرمپ اس کے غیر معینہ مدت چیئرمین کے طور پر کام کریں گے، جو صدر کے طور پر ان کی دوسری مدت کے دورانیہ سے آگے جا سکتی ہے۔ ٹرمپ کی جگہ صرف رضاکارانہ استعفیٰ یا نااہلی کے نتیجے میں خالی ہوسکتی ہے ،جو ایگزیکٹو بورڈ کے متفقہ ووٹ سے طے کی جائے گی۔ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ مستقبل کا امریکی صدر ٹر،مپ کے علاوہ کسی اورامریکی نمائندے کوبھی بورڈ میں تعینات یا نامزد کر سکتا ہے۔

 

مزید پڑھیں:غزہ امن بورڈاقوام متحدہ کامتبادل ہوسکتاہے لیکن اسے کام جاری رکھنے دیناچاہیے۔ ٹرمپ

 

اقوام متحدہ میں سابق نائب امریکی سفیر رابرٹ ووڈ نے کہا کہ پیوٹن یقینی طور پر بورڈ آف پیس میں رکنیت قوام متحدہ کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کریں گے اور توسیع کے ذریعے، امریکہ کے اتحاد میں مزید تقسیم کا بیج بوئیں گے ۔

 

امریکی خبررساں ادارے نے مزید کہا کہ اور کئی عہدیداروں میں خدشات ہیں کہ غزہ بورڈ کا وسیع چارٹر اقوام متحدہ کی جگہ لینے کی کوشش ہے ،کیوں کہ یواین او ایک ایسی تنظیم ہے جس پرٹرمپ نے مسلسل تنقید کی ہے۔ چارٹر ڈرافٹ، جو شمولیت کی دعوتوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا، غزہ کا حوالہ بھی نہیں دیتا۔

 

چارٹر میں بورڈ آف پیس کو ایک بین الاقوامی تنظیم کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو استحکام کو فروغ دینے، قابل بھروسہ اور قانونی حکمرانی بحال کرنے اور تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں پائیدار امن کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتی ہے۔وائٹ ہائوس کی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے اپنے اس ارادے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ کہا کہ ان کا بورڈ بین الاقوامی ادارے کی جگہ لے سکتا ہے۔

 

فرانس نے بورڈ کی رکنیت سے اس خدشے پر انکار کر دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ جیسا ایک الگ نظام بنائے گا۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفروکس نے سی این این کو بتایا کہ جب آپ چارٹر کو پڑھتے ہیں تو اس کا اطلاق صرف غزہ پرنظر نہیں آتا، حالاں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جس قرارداد پر ہم نے ووٹ دیا تھا، وہ غزہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے تھی۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ چارٹر کے حوالے سے بہت اہم تشویش پیدا کرتا ہے۔

آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے کہا کہ ان کا ملک دعوت نامے پر احتیاط سے غورکرے گا، لیکن انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کی طرف سے تجویز کردہ مینڈیٹ غزہ امن منصوبے کے نفاذ سے زیادہ وسیع ہوگا۔

 

ٹائمزآف اسرائیل نے کہا ہے کہ امریکہ نے اصل میں بورڈ آف پیس کو غزہ پر توجہ مرکوز کرنے والے ایک نگران ادارے کے طور پر پیش کیا تھا، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر میں انہیں 2027 کے آخر تک اس کا مینڈیٹ دیا تھا۔لیکن گزشتہ ہفتے ممکنہ اراکین کو بھیجے گئے بورڈ آف پیس چارٹر میں غزہ کا کوئی ذکر نہیں اور اس بات کی نشاندہی ہے کہ امریکہ عالمی رہنماؤں کے اس پینل کو دنیا میں تنازعات حل کرنے کا سب سے بڑا ادارہ بنانا چاہے گا۔

 

الجزیرہ کے مطابق،امریکی صدر عالمی رہنماؤں کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے دعوت نامے بھیج رہے ہیں، جو ابتدائی طور پر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کے حصے کے طور پر پیش کیے گئے تھے۔تاہم، صدر کی طرف سے بھیجے گئے خطوط اور چارٹر بورڈ کے لیے وسیع تر مینڈیٹ کے مقاصد کی نشاندہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 

ہارون ڈیوڈ ملر، جو امریکہ کے لیے مشرق وسطیٰ کے ایک سابق مذاکرات کار ہیں، نے اقوام متحدہ کے کام کو تبدیل کرنے کے لیے بورڈ آف پیس کی صلاحیت پر شک ظاہر کیا۔انہوں نے امریکی میڈیاکو بتایا کہ یہ سب زمینی حقائق سے بہت بعید اور تخیلاتی ہے۔ تنازعات بیرونی تنظیموں کے ذریعہ نہیں بلکہ تصادم اور تنازع میں ملوث فریقوں کے ساتھ کام کرنے والے ثالثوں کے ذریعہ حل کیے جاتے ہیں۔

 

ملر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی خامیوں اور ناکارہیوں کے باوجود، آپ 1946 سے قائم ایک تنظیم کی جگہ یا مقابلہ کیسے کریں گے، جس کے پانچ مستقل ارکان کے ساتھ سلامتی کونسل ہے، جس نے کئی دہائیوں کے دوران بہت اچھے انسانی کام اور امن قائم کرنے کے کام کیے ہیں؟آپ اس تنظیم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔یہ بہت بڑی ہے، بہت پائیدار ہے، اور یہ کرہ ارض کے بہت سے مختلف ٹکڑوں کے لیے بہت ضروری ہے۔

 

ووڈ نے مزید کہاکہ بورڈ آف پیس کے لیے اقوام متحدہ کی جگہ لینے کی کسی بھی کوشش کی یقینی طور پر اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک مخالفت کریں گے۔آیا بورڈ آف پیس کا بین الاقوامی  تنازعات  حل  کرنے کے طریقہ کار کے طور پر کوئی مستقبل ہے یا نہیں اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ غزہ میں کیا کرپاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔