گل پلازہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی حکومت کیلئے چیلنج

کراچی (رپورٹ : سید نبیل اختر) گل پلازہ کے سیکڑوں متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی حکومت کیلئے چیلنج بن گئی ،12 سو دکانوں ، گوداموں میں جل جانے والے مال کے مالکان اور دکان کے مالک دکان کے معاوضے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔80 فیصد دکان اور گودام کرائے پر تھے۔بدقسمت شاپنگ سینٹر کی تعمیر نو اور دکانوں کی حوالگی کا معاملہ بھی حکومت کیلئے درد سے بنے گا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کے تحت گل پلازہ کی تعمیرات کی صورت میں پرانی شکل تبدیل ہوجائے گی ۔بیسمنٹ سمیت تین منزلہ شاپنگ سینٹرز میں 1200 دکانیں تعمیر نہیں کی جاسکتیں ۔ صدر میں متبادل دکانوں اور تعمیرات کیلئے ایس بی سی اے کے زیرنگرانی بلڈرز کا کنسورشیم بنانے کی تجاویز بھی سامنے آنے لگیں ۔ اہم ذرائع نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ سے تباہ ہونے والے خاکستر گل پلازہ شاپنگ سینٹر کا بیشتر حصہ ڈیمولیش ہوچکا ہے ، رہ جانے والے حصے بھی جھڑ جھڑ کر گررہے ہیں ۔ ایسی صورت میں گل پلازہ کے تقریباً 2 ایکر کے پلاٹ پر پہلے جیسا گل پلازہ بننے کا امکان ختم ہوگیا اور اب اسے نئے سرے تعمیر کیا جائے گا ۔ امت نے اس ضمن میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور بلڈنگ کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ایک فرد سے بات تو انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کے قوانین کے تحت گل پلازہ پہلے جیسی حالت میں نہیں بن سکتا ۔ موجودہ گل پلازہ میں 20 اسکوائر فٹ کی بھی ایک دکان موجود ہے جو اب نئے قانون کے مطابق بننا غیر قانونی ہے ، کسی بھی کمرشل تعمیرات میں 100 اسکوائر فٹ سے کم دکان تعمیر نہیں کی جاسکتی ۔ نئی تعمیرات کی صورت میں 30 ہزار اسکوائر فٹ جگہ پر دکانیں تمعیر کی جاسکیں گی ۔ تاہم موجودہ گل پلازہ میں کسی کے پاس 20 اور زیادہ سے زیادہ 12 سو اسکوائر فٹ کی دکانیں ہیں ۔ نئے تعمیراتی قانون کے مطابق جتنی دکانیں اور ویئر ہاؤس ہوں گے اسی حساب سے گاڑیوں کی پارکنگ کے لیئے فلور چھوڑنا پڑیں گے ۔ بلدنگ کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ نئے تعمیراتی قانون کے تحت کلفٹن ، گارڈن اور شہر کے دیگر علاقوں میں بننے والے شاپنگ پلازہ میں دو منزلہ بیسمنٹ ، تین فلور دکانوں اور تین فلور ویئر ہاؤس کیلئے مختص کیئے جارہے ہیں ، گل پلازہ شاپنگ سینٹر کا پلاٹ 63 ہزار اسکوائر فٹ پر ہونے کی وجہ سے یہاں 40 فلور کی عمارت بھی تعمیر کی جاسکتی ہے جس میں بارہ سو سے کہیں زیادہ دکانیں تعمیر کی جاسکتی ہیں۔ تاہم موجودہ صورت حال میں اس کی تیرجہات کے حوالے سے کئی تجاویز سامنے آرہی ہیں جس میں حکومت کی جانب سے مذکورہ پلاٹ پر شاپنگ پلازہ کی تعمیرات کیلئے ایس بی سی اے کی نگرانی میں بلڈرز کا کنسورشیم قائم کرنا اور اس کے تحت تعمیرات کرکے سارے متاثرین کو ان کی دکانیں بناکر دینا شامل ہے ۔نو تعمیر شدہ دکانوں کے حوالے سے یہ واضح ہے کہ ان کا سائز کم ازکم 100 اسکوائر فٹ ہوگا ، یعنی موجودہ گل پلازہ میں 20 اسکوائر فٹ کی 5 دکانوں کے مالک کو صرف ایک دکان ہی الاٹ کی جاسکے گی ۔ ایسے دکان مالک کم ہی ہوں گے جن کی ایک ساتھ پانچ دکانیں ہوں ۔ معلوم ہوا ہے کہ گل پلازہ میں ایک ہی مالک کی 16 دکانیں بھی ہیں ، بعض خواتین دکانوں کی مالک ہیں جن کا گزر بسر ذرائع نے بتایا کہ گل پلازہ میں 12 سو دکانوں اور ویئر ہاؤس میں 80 فیصد کرائے پر تھے جس میں حکومت کو 200 فیصد معاوضہ ادا کرنا پڑے گا ، دکان کا مالک اپنی پراپرٹی کے معاوضے کا مطالبہ کررہا تو اسی دکان کا کرائے دار اپنے کروڑوں روپے کے مال کا معاوضہ مانگ رہا ہے ۔ امت کو گل پلازہ شاپنگ پلازہ میں تیسری منزل پردو سے زائد دکانوں کے مالک نے بتایا کہ ان کے شوروم کی مالیت 7کروڑ روپے تھی اور انہیں فروخت کے حوالے سے گزشتہ دو ماہ کے دوران کئی آفرز بھی آئیں ۔ اسی طرح کئی دکانداروں نے مختلف بروکرز کے ذریعے اچھی آفرز کا ذکر کیا ، سیکنڈ فلور کے ایک شاپ مالک نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو تین ماہ سے مارکیٹ میں دکانوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے باتیں کی جارہی تھیں اور لوگ ایک دوسرے کو اپنی دکانوں کی آفرز کے بارے میں بتارہے تھے ، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہمیں یہ لگتا ہے کہ دکان میں آگ ایک سازش کے تحت لگائی گئی ہے ورنہ ایک ساتھ دونوں دروازوں پر کچھ ہی منٹوں مین آگ لگنا کیسے ممکن ہے ؟۔ گل پلازہ کے پلاٹ کی موجودہ مالیت کے حوالے سے امت کو ایک ماہر ریئل اسٹیٹ بروکر نے بتایا کہ یہ پلاٹ کم از کم 9 ارب روپے کا ہے ، اگرحکومت اس پلاٹ کو نیلام کرکے معاوضہ دینے کی بات کرتی ہے تو خریدار کو اربوں روپے کا منافع ہوگا ۔موٹا موٹا حساب لگایا جائے تو 9 ارب روپے کا پلاٹ ، ایک ارب روپے نقشہ پاس کرانے کی رشوت اور 15 ارب روپے کنسٹرکشن کی لاگت آئے گی جبکہ 25 ارب روپے خرچ ہونے پر خریدار کے پاس 45 ارب روپے کا مال فروخت کیلئے موجود ہوگا ۔ یعنی 20 ارب روپے کا سیدھا سیدھا منافع ۔

حکومت کیلئے چیلنج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔