کراچی(رپورٹنگ ٹیم )سانحہ گل پلازہ میں شعبہ فائر بریگیڈ کے 350سے زائد گھوسٹ ملازمین غیر حاضر رہے ،سابق میئر کراچی وسیم اختر کے دور میں کنٹریکٹ سے مستقل کیئے گئے ملازمین آج تک ملازمت پر نہیں آئے ،2009 میں بھرتی ہونے والے ملازمین بھی ملازمت سے غائب رہتے ہیں ،تمام گھوسٹ ملازمین ہر ماہ باقاعدگی سے تنخواہ وصول کررہے ہیں،تفصیلات کے مطابق کے ایم سی شعبہ فائر بریگیڈ کے کئی سالوں سے گھوسٹ رہنے والے ملازمین اس بڑے سانحہ میں بھی ملازمت پر نہیں آئے ،اسٹاف کی کمی محسوس ہونے پر ملازمین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے نمبرز بند کردیئے۔’’امت‘‘ کو کے ایم سی فائر بریگیڈ کے سابق چیف فائر افسر نے بتایا کہ 2009اور سابق میئر کراچی وسیم اختر کے دور میں بھرتی ہونے والے ملازمین آج تک ملازمت پر ہی نہیں آئے ہیں ، یہ ملازمین فائرفائیٹنگ،مکینکل اور ایڈمنسٹریشن کے ہیں جو نہ فون اٹھاتے ہیں اور نہ ہی دفتر آتے ہیں لیکن یہ ملازمین ہر ماہ باقاعدگی سے تنخواہ وصول کررہے ہیں۔سابق چیف فائر افسر نے بتایا کہ گھوسٹ ملازمین مکمل تربیت یافتہ ہیں اور اس سے قبل جو آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ان میں بھی یہ غیر حاضر رہے ہیں ،ہم نے کئی بار ان کے خلاف میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کوشکایت درج کروائی ہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ایک اندازے کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی ہونے والی رقم 8 لاکھ سے زیادہ ہے جو کے ایم سی کے اعلیٰ افسران کو پہنچتی ہے۔افسر نے بتایا کہ جب بھی ان ملازمین کو دفتر بلانے کے لیئے زور دیا جاتا ہے تو فائر بریگیڈ اور کے ایم سی افسران رکاوٹ بنتے ہیں۔
گھوسٹ ملازمین
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos