26 جنوری کوبھارتی یوم جمہوریہ پر خطرات نے نئی دہلی سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک سیکیورٹی اداروں کی دوڑیں لگادیں۔’’ فالکن اسکواڈ‘‘ نامی ایک پراسرارکشمیری مزاحمتی گروپ نے بھارتی حکام کی نیندیں حرام کردی ہیں جس کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیاپر نظرآرہی ہیں۔لال قلعہ دھماکے جیسا واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بھی کیے جانے کی انٹیلی جینس اطلاعات ہیں،شبہ ہے کہ نئی دہلی دھماکہ دراصل یوم جمہوریہ پر کرنے کا منصوبہ تھا لیکن کسی وجہ سے قبل ازوقت ہوگیا۔ بنگال میں بھی سرحدیں پریشان کن صورت حال پیش کررہی ہیں۔
یوم جمہوریہ منانے کے لیے مقبوضہ وادی کو وسیع جیل میں تبدیل کردیاگیاہے اور سخت جانچ پڑتال کاسلسلہ جاری ہے۔وادی بھرمیں غیر معمولی حفاظتی انتظامات نافذ ہیں۔ سری نگر شہر میں تقریب کے مرکزی مقام بخشی اسٹیڈیم کے گرد 3 درجاتی حفاظتی حصار کھینچ دیاگیا ہے۔جگہ جگہ چوکیاں، شاہرات، ریلوے اسٹیشنز سمیت ذرائع آمدورفت پر کڑی نگرانی کا جال بچھاہواہے۔
یہ اقدامات پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے ایک اعلیٰ سطح جائزے کے بعد ہوئے ۔ مقبوضہ کشمیر کے اخبار ’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘ کے مطابق ،تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ بخشی اسٹیڈیم کو تین قسم کی حفاظت میں رکھا گیاہے۔
چوکیوں اور شاہراہوں کے ساتھ ایک بیرونی حلقہ، اسٹیڈیم کے قریب تیز گشت اور نگرانی (ڈرون، سی سی ٹی وی) کی درمیانی تہہ،چھتوں پر شارپ شوٹرز کے ساتھ ایک اندرونی تہہ قائم کی گئی ہے۔سڑکوں پر جگہ جگہ تلاشی لی جارہی ہے۔فور ی رسپانس ٹیمیں ہرطرف پھیلی ہوئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیموں کو اسٹریٹجک مقامات پر تعینات کیا گیا ہے، خصوصی چوکیاں قائم کی گئی ہیں، گاڑیوں کی جامع اور انفرادی چیکنگ کے لیے پیٹرولنگ کی جارہی ہے۔چوبیس گھنٹے چوکسی برقرار رکھنے اور امن عامہ کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنے کے لیے رات کا گشت اور سرپرائز انسپکشن بھی جاری ہے۔
مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی پر سخت زور دیتے ہوئے حساس علاقوں میں اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔سیکیورٹی پروٹوکول پرعمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سینئر افسران ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔
شمالی، جنوبی اور وسطی کشمیر کے علاقوں سے بھی سخت حفاظتی انتظامات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔یہ اقدامات انٹیلی جنس معلومات اور حالیہ واقعات کے بعد چوکسی بڑھائے جانے کے درمیان آئے ہیں،جن میںسری نگر،بارہمولہ ہائی وے پر ایک آئی ای ڈی کا سراغ بھی شامل ہے۔سری نگر جموں قومی شاہراہ پر سیکورٹی کو کافی سخت کر دیا گیا ہے۔کولگام ضلع میں، پولیس نے ایس ایس پی کولگام عنایت علی چودھری کی ہدایت پر ایڈیشنل ایس پی نیشنل ہائی وے قاضی غنڈ، ایس ڈی پی او قاضی غنڈ اور ڈی وائی ایس پی ایس او جی میر بازار کی ذاتی نگرانی میں کارروائیوں کو تیز کیا ہے۔
سرینگر جموں قومی شاہراہ کے ساتھ ساتھ کشمیر نیویگ ٹنل گیٹ، قاضی غنڈ، میر بازار، ال سٹاپ، کھڈوانی بائی پاس اور کولگام کے دیگر حساس مقامات سمیت اہم مقامات پر گاڑیوں کی چیکنگ اور شناخت کی تصدیق کی جا رہی ہے۔میٹل ڈیٹیکٹرز سے لیس کثیر درجے کی گشتی ٹیمیں، ڈاگ سکواڈز کی مدد سے، ہائی وے اور ملحقہ علاقوں کی فعال طور پر نگرانی کر رہی ہیں۔
بھارتی میڈیاذرائع کے مطابق،انٹیلی جنس بیورو نے سیکورٹی ایجنسیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دہلی میں یوم جمہوریہ کی تقریبات سے قبل انتہائی ہائی الرٹ کی حالت میں رہیں، کیونکہ جیش محمد اور القاعدہ کی جانب سے مربوط حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔انٹیلی جنس ایجنسیوں کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق یہی گروپ ایودھیا میں رام مندر پر بھی حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔انٹیلی جنس بیورو کے ایک اہلکار نے بتایا کہ منصوبہ بندی مقامی طور پر کی گئی اور اس کا مقصد دہلی اور ایودھیا سمیت متعدد مقامات پر حملہ کرناہے۔
ان تمام مقامات پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور ان تنظیموں سے منسلک افراد کوپکڑنے کے لیے بڑی کارروائیاں جاری ہیں۔یہ الرٹ اس پس منظر میں بھی آیا ہے جب پولیس نے حال ہی میں جیش کے ایک ماڈیول کوبے نقاب کیا تھا، جس نے نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب ایک دھماکہ کیا ۔ایک اور اہلکار نے بتایا کہ لال قلعہ دھماکہ اصل میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کیا جانا تھالیکن ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور گھبرا گیا اور وقت سے پہلے ہی بم کو متحرک کر دیا۔
پولیس کی جانب سے فرید آباد ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کے بعد خوف وہراس پھیل گیا، جس میں 2000 کلو گرام سے زیادہ امونیم نائٹریٹ برآمد ہواتھا۔سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جیش اس منصوبہ کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے، جو وہ پہلے نہیں کر پا رہی تھی۔ ایجنسیاں اب ایسے شواہدکی تلاش میں ہیں جو انہیں اس ماڈیول تک لے جا سکیں۔مزید برآں، اہلکار تلاشی کی کارروائیاں بھی کر رہے ہیں جو انہیں اس دھماکہ خیز مواد کے سراغ تک لے جا سکیں جسے حملوں کو انجام دینے کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ایجنسیوں کو معلوم ہوا ہے کہ فرید آباد ماڈیول کی طرح یہ بھی جموں و کشمیر میں ہے۔ ایک اور اہلکار نے بتایا کہ وہاں حملوں کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔
سیکورٹی ایجنسیوں کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آن لائن بہت زیادہ گپ شپ ہورہی ہے، اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں کافی بڑھ گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں، کشمیری مزاحمتی گروپ کی طرف سے قائم کردہ Falcon Squad کے نام سے ایک اکاؤنٹ نے اپنی آن لائن سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔
سیکیورٹی ڈرائع کے مطابق ،یہ گروپ اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر نوجوانوں کو بھڑکا رہا ہے۔ بہت سارے پروپیگنڈے ہیں جو آن لائن سامنے آئے ہیں۔کچھ ذرائع کے مطابق فالکن اسکواڈ کا تعلق داریزسٹنس فرنٹ(TRF) سے ہے۔اس دوران ایجنسیاں شمال مشرقی ریاستوں اور مغربی بنگال پربھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پچھلے ہفتے بنگلہ دیش میں ایک سازش کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں جس کا مقصد ان ریاستوں کو نشانہ بنانا ہے۔ ان حملوں کے لیے بہت سے ارکان کو تربیت دی گئی ہے، اور وہ مغربی بنگال کے راستے بھارت میں دراندازی کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ گروہ اس حقیقت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں کہ مغربی بنگال اور کچھ شمال مشرقی ریاستوں میں انتخابات قریب ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں، اور بنیاد پرست عناصر کسی قسم کی مہم جوئی میں ملوث ہونے کی کوشش کریں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos