آج ہم گلوبل وارمنگ کے شواہد کو ایک نمایاں اور اچانک تبدیلی کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن زمین کے درجہ حرارت کی اصل پیمائش صرف پچھلے 150 سال میں کی گئی ہے۔ اس سے پہلے، کوئی پیمائش نہیں تھی اوروہ تمام گراف اور چارٹ جو150 برس پہلے زمین کا درجہ حرارت دکھاتے ہیں، تخمینوں، مفروضوں اور حساب پر مبنی ہیںلیکن حقیقی سائنسی پیمائش نہیں۔
پچھلے 150 سال میں ریکارڈکیے گئے درجہ حرارت کو اربوں سال کی ٹائم لائن پر دیکھا جائے توزبردست تبدیلی نظر آتی ہے۔ لیکن جب اعداد و شمار کو تقریباً 5 ہزارسال پہلے کے تناظر میں دیکھیں تو واضح طورپر یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ یہ کوئی اچانک تبدیلی نہیں، بلکہ اس کا تسلسل ہے جو طوفان نوح میں آنے والے سیلاب کے بعد سے منتقل ہو رہا ہے۔
طوفان نوح کے سیلاب نے صرف زمین کا جغرافیہ ہی نہیں بدلا بلکہ اس نے انسانی زندگی کو برقرار رکھنے والے ماحول کو بھی بدل دیاتھا۔ سیلاب کے بعد کی دنیا سخت اور حیاتیاتی لحاظ سے کمتر تھی، اور انسانی جسم کوپہلے کی طرح سہارا دینے کے قابل نہیں رہی۔Lost World Museum کے بانی جان ایڈولفی(John Adolfi)نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ
950 سال حضرت نوح کی عمرتھی لیکن ان کے بیٹوں کی اتنی عمر نہیںہوئی۔ان میں سے ایک سام(Shem) 600سال تک زندہ رہا ۔ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے کسی شخص کی سب سے طویل ریکارڈ شدہ زندگی کا دورانیہ ایبر(Eber ) 464 سال تھا۔
دنیامیں موسمیاتی تبدیلیوں کا آغازطوفان نوح تھا۔یہ کرہ ارض پر وہ پہلا بڑاواقعہ تھا جو گلوبل وارمنگ اور آب وہوا میں خرابیوں کو انسان کے سامنے لے کرآیا۔
کلیولینڈ، جارجیا میں ٹروٹ میک کونل یونیورسٹی کے ماہر حیاتیات کرٹ وائز نے کہا کہ طوفان نوح ایک بڑے پیمانے پر معدومیت لانے والا واقعہ تھا ، یہ نہ صرف لاکھوں گنا بدتر اور تیز رفتار تھا بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ بھی تھا جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی نہیں دہرائے گا۔
سیلاب نے صرف دنیا کو تباہ نہیں کیا بلکہ اس نے لمبی انسانی عمرکے ساتھ ساتھ طویل قامتی کو بھی ختم کر دیا۔کہا جاتاہے کہ حضرت نوح کے زمانے تک لوگوں کے قد 10 فٹ یا زیادہ ہوتے تھے۔ایڈولفی کے مطابق ، خود حضرت نوح 12 فٹ لمبے تھے۔اس طوفانی سیلاب سے زمین اپنے محورپر لرزگئی تھی۔کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔اس کی وجہ کیا تھی، یہ جاننے کے لیے وڈیو دیکھیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos