تہران: ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 5 ہزار 2 تک پہنچ گئی ہے۔
انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ملک میں انٹرنیٹ کی بندش مسلسل دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری ہے، جو ایران کی تاریخ کی سب سے طویل اور جامع انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن قرار دی جا رہی ہے۔
امریکی ریاست میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 ہزار 716 مظاہرین شامل ہیں، جبکہ 203 افراد حکومت یا سیکیورٹی اداروں سے وابستہ تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق افراد میں 43 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 40 ایسے شہری تھے جو براہِ راست احتجاج میں شریک نہیں تھے۔ تنظیم کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران 26 ہزار 800 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایران کے اندر موجود کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے تصدیق کے بعد مرتب کیے گئے ہیں، اور ماضی میں ایران میں ہونے والے احتجاجی واقعات کے دوران ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں معلومات تک رسائی شدید طور پر محدود ہے۔ حکام نے 8 جنوری سے انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے بارے میں آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ اسی دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جہاں امریکا نے طیارہ بردار بحری بیڑا خطے کے قریب روانہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس بحری موجودگی کو ’’آرماڈا‘‘ قرار دیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos