ایمان مزاری اور ہادی علی کو 17،17 سال قید۔3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو متنازع ٹویٹس کیس میں 17، 17 سال قید اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائیںکی سزا سنا دی۔ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کمرہ عدالت میں مختصر فیصلہ سنایا۔
22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا۔عدالت نے پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا۔
فیصلہ سنانے کے وقت اسپیشل پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد، رانا عثمان عدالت میں موجود تھے، ایمان مزاری، ہادی علی کی جانب سے کوئی بھی وکیل فیصلے کے وقت کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔
قبل ازیں انسداد دہشتگردی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو ہائیکورٹ کے باہر جھگڑا کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔
جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی زیرِ صدارت سماعت کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کے جوڈیشل ریمانڈ کا حکم جاری کیا، جس کے بعد دونوں کو 14 روز کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایمان مزاری اور ہادی علی کو اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔