گل پلازہ سانحہ،دبئی کراکری میں لوگ موقع ملنے کے باوجود نہیں نکلے

کراچی: گل پلازہ سانحہ کے دوران دبئی کراکری میں موجود افراد موقع ملنے کے باوجود باہر نکلنے میں ناکام رہے، جس کے باعث افرا تفری پھیلی اور کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ گل پلازہ کے سیلز مین دانیال محمد زاہد نے امت کے رپورٹر محمد نعمان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھواں اور سموگ کے باعث لوگوں نے صحیح رہنمائی حاصل نہیں کی اور کچھ افراد ہمت نہ ہونے کی وجہ سے باہر نکلنے میں ناکام رہے۔

دانیال محمد زاہد کے مطابق تقریباً 10 بجے کے وقت دھواں شروع ہوا اور صرف پانچ منٹ میں پورے فلور پر زریلا دھواں پھیل گیا، جس سے دماغی صلاحیت متاثر ہوئی اور لوگوں میں افرا تفری پھیل گئی۔ انہوں نے بتایا کہ واشنگ والی سیڑھی اور مسجد کے گیٹ کھلے ہونے کے باوجود لوگ باہر نکلنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے، جس کی وجہ سے متعدد افراد دبئی کراکری کی طرف گئے جہاں پچیس سے تیس لاشیں برآمد ہوئیں۔

دانیال نے مزید کہا کہ دھواں اور ہجوم کے باعث وہ خود بھی مکمل راستہ طے نہ کر سکے اور کئی افراد ہمت ہار کر واپس فلور پر آگئے۔ انہوں نے زور دیا کہ سانحہ میں بروقت رہنمائی اور ایمرجنسی راستوں کی عدم دستیابی نے انسانی جانوں کے ضیاع میں اہم کردار ادا کیا۔

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف آگ لگنے سے نہیں بلکہ دھوئیں، ہجوم اور انتظامی ناکامی کی وجہ سے نقصان بڑھا، جس سے مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لیے مؤثر آگ بجھانے کے نظام اور حفاظتی اقدامات کی اشد ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔