کروڑوں روپے مالیتی سونے کافراڈ کیس میں ملزم کی گرفتاری موبائل ٹریکنگ سے ہوئی۔ لاہورمنتقل

 

لاہورکی اچھرہ جیولری مارکیٹ کے تاجروں سے کروڑوں روپوں کا فراڈ کر نے والے ملزم کی اسلام آبادسے گرفتار ی موبائل لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے ممکن ہوئی۔پولیس حکام کے مطابق ملزم کواسلام آبادسے گرفتار کیا گیا ،جس کے بعداسے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

اچھرہ جیولری مارکیٹ سے 20کلو سونا جس کی مالیت تقریبا 68کروڑ روپے بنتی ہے۔ غائب ہونے کے کیس میںمجموعی طور پر 7مقدمات درج ہیں۔ 25 کے قریب درخواستوں پر پر کاروائی کی جا رہی ہے۔پولیس ی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے تھے۔

ملزم کی گرفتاری موبائل لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے ممکن ہوئی۔رائع کے مطابق ملزم کا موبائل فون ٹریس کر نے کے لیے سسٹم پر لگایا گیا تھا تاہم ملزم فون زیادہ تر بند ہی رکھتا ۔کچھ دن قبل ملزم نے اپنے زیر استعمال موبائل فون مارکیٹ میں فروخت کیے جنہیں اسلام آباد کے شہری نے خریدا اور اپنا سم کارڈ ڈالا کر کال کی جس کی لوکیشن پولیس کو موصول ہوئی ۔اس پرپولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے شہری کو گرفتار کیا تو شہری نے بتایا کہ اس نے موبائل فون مارکیٹ سے خریدا ہے جس کی رسیدیں بھی موجود ہیں۔ پولیس نے رسید لی اور متعلقہ موبائل شاپ پر پہنچی جہاں ملزم نے موبائل فروخت کیے تھے۔ دوران تفتیش معلوم ہوا کہ ملزم نے دو فون فروخت کیے اور دو نئے فون خریدے ہیں۔ پولیس نے نئے فونز کا ای ایم ای آئی نمبر چیک کیا تو ملزم کے زیر استعمال فون نمبرز ٹریس ہوئے ۔ملزم کے نئے نمبرز کی ڈیٹلیز نکالی گئیںتو معلوم ہوا ملزم کے زیر استعمال نمبر کسی اور شخص کے نام پر رجسٹر ڈ ہیں ۔ پولیس نے متعلقہ شہری کو حراست میں لیا جس کی نشان دہی پر ملزم شیخ وسیم کو گرفتار کیا گیا۔

شیخ وسیم اختر نامی جیولر اچھرہ مارکیٹ کے تاجروں سے فراڈ کرتے ہوئے 20 کلو سونا لے کر فرار ہو گیا تھا۔
واقعے پر مارکیٹ کے کئی دکانداروں نے پولیس سے رجوع کیا، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں ایک شخص کو ہاتھ میں شاپر اٹھائے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ یہی وہ تاجر ہے جو مبینہ طور پر 20 کلو سونا، جس کی مالیت تقریبا ایک ارب روپے بتائی جا رہی ہے، لے کر غائب ہوا۔
لطیف سینٹر لاہور میں سونے کی خرید و فروخت کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں درجنوں جیولری کی دکانیں قائم ہیں۔گرفتاری لاہور پولیس کی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا نتیجہ ہے۔ ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے جہاں سونے کی برآمدگی اور دیگر ممکنہ ساتھیوں کی نشاندہی متوقع ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا مارکیٹ میں اثر و رسوخ تھا اور وہ جیولرز ایسوسی ایشن کا سابق صدر بھی رہ چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔