اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا دیے جانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں کا تین روزہ بائیکاٹ جاری ہے۔
اسلام آباد بار کونسل، ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار نے تین روزہ ہڑتال کی کال دی ہے، جس کے دوران وکلاء صرف ارجنٹ کیسز میں پیش ہو رہے ہیں۔
احتجاج کے دوران وکلاء نے عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر پابندی عائد کی اور کینٹین میں موجود پولیس اہلکاروں کو باہر نکال دیا۔
ہائیکورٹ کے احاطے اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑیاں بھی تعینات ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفپاری اور اس دوران وکلا اور بار کے لیڈران پر پولیس تشدد کے خلاف وکلا کا ڈی آئی جی آفس کے باہر احتجاج pic.twitter.com/BRD978tsC7
— Israr Ahmed (@IsrarAhmedPK) January 26, 2026
وکلاء کی جانب سے سیشن جج ایسٹ کی عدالت کے باہر ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی ڈاکٹر اور صدر بار ایسوسی ایشن نعیم گجر نے کی۔ احتجاج میں ڈاکٹر بابر اعوان سمیت دیگر وکلاء نے بھی شرکت کی اور “انصاف دو” کے بینرز اٹھائے۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پہلے جج سڑکوں پر نکلے، اب وکلاء سڑکوں پر ہیں، وکلاء کے خلاف ریاست گردی جاری ہے اور پولیس کی کارروائیاں سوسائٹی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ احتجاج ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر ختم کر دیا گیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos