لیاری دریا آباد کا رہائشی عمران گل پلازہ آگ میں لاپتہ ہونے والے افراد میں شامل ہے۔ بیٹا تو آگ کی نذر ہوگیا لیکن بوڑھے والدین اب اس کی لاش یا باقیات لینے کیلئے دربدر ہیں۔ لیکن انہیں دھکے کیے دیئے جا رہے ہیں۔ عمران کے والد ابراہیم اور والدہ نے اتوار کے روز گل پلازہ کے ملبے کے قریب صحافیوں سے بات کی۔ ہمارے رپورٹر محمد نعمان نے بعد میں ابراہیم سے مزید گفتگو بھی کی۔ عمران کے والد کا کہنا تھا کہ ابھی تک نہیں آیا میرا بیٹا چاہتا ہوں میرا بیٹا چاہتا ہوں ہمیں صرف میرا بچہ ہی چاہیے اور کچھ بھی نہیں چاہیے ہم کچھ نہیں مانگتے کسی سے کچھ نہیں چاہیے ۔ میں 10 دن سے دھکے کھا رہا ہوں۔ تقریباً تین سال سے کام کر رہاتھا ۔ رات تقریباً 10 بجے بچے سے بات ہوئی تو بیٹا کہنا لگا ابھی میں اوور ٹائم لگا رہا ہوں میں 2 بجے تک گھر آ جائوں گا۔اس کے بعد دوبارہ بیٹے سے بات نہیں ہو سکی۔
باڈی ہو کچھ بھی ہو، چاہے زندہ ہو یا مردہ ہے لیکن ہمیں کچھ بھی مل جائے ہے تاکہ دل کوسکون تو ہو جائے ۔ والد کا کہنا ہےکہ بیٹا شادی شدہ ہے مگر اس کی اولاد نہیں ہے یہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے بات یہاں آنہی نہیں دیتے یہاں پہنچ جاتے ہیں کہ یہاں وہ لکھوائو یہوں نام لکھوائو بلانہ کرلو ڈھمکہ کرلو باقی اور کچھ بھی نہیں ہمیں قریب جانے ہی نہیں دے رہے تھے وہ جو مالک تھا وہ تو گیا بیٹے کے ساتھ ہی مارا گیا ۔مالک بھی نہیں سکتا مالک کا بھائی ہے اچھا اس کا بھائی ہے اس کا جو مالک کا دوسرا بھائی ہے وہ اسے رابطہ ہو رہا ہے وہ کہہ رہے ہیں میںا بھی کیا کروں میں آپ سرفراز بھائی کے پاس یہ کام کرتے تھے سرفراز بھائی کے پاس کام کرتے تھے سرفراز بھائی کے پاس کام کر رہا ہے ۔سر لیکن مجھے پھر بھی کوئی جواب نہیں مل رہا ہے وہ ہمارا ایک سہارہ تھا لہٰذا ہمیں اور کسی سے کچھ بھی نہیں چاہیے صرف ہمیں ہمارے بچہ جس حال میں بھی یہ بچہ چاہیے دو چھوٹے یہ بڑھاتے ہیں عمران کے بعد جو لڑکہ تھے وہ فوت ہو گئے تھے پہلی اب یہ چھوٹے ہیں
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos