عام انتخابات کے دو سال مکمل ہونے پر 8 فروری کو تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں احتجاج کریں گی، تاہم مختلف پروگراموں کی وجہ سے اپوزیشن یکجا نہیں ہو سکی۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک تحفظ آئین نے اپنے احتجاج کی حکمت عملی حتمی شکل دی، جبکہ جے یو آئی (ف) نے اس حوالے سے الگ پروگرام کا اعلان کیا۔ تحریک تحفظ آئین نے طویل تحریک کی بجائے صرف ایک روزہ احتجاج کا فیصلہ کیا، جس کا مقصد پی ٹی آئی کو سڑکوں کی سیاست سے دور رکھنا بتایا گیا۔
اجلاس کے بعد محمود اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 8 فروری کا احتجاج صرف ایک دن کے لیے ہوگا، اور عوام حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف پرامن طریقے سے حصہ لیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج میں مکمل شٹر ڈاؤن شامل ہوگا اور اپوزیشن اتحاد دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر سے تعاون حاصل کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 8 فروری کا احتجاج ایک آغاز ہے اور اگلے مرحلے میں تحریک تحفظ آئین اپنے کارکنوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کو جیل بھرو تحریک کے لیے تیار کر سکتی ہے۔
ترجمان جے یو آئی (ف) اخوند زادہ حسین یوسف زئی نے کہا کہ پارٹی نے بھی 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک تحفظ آئین کے احتجاج پر جے یو آئی اعتماد میں نہیں تھی، اسی لیے الگ احتجاج کیا جا رہا ہے، تاہم بات چیت کے لیے تعاون کرنے کا ارادہ ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos