لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت 2026 کے تین روزہ میلے کے لیے جامع سکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہریوں کو سخت وارننگ دی کہ بسنت سے پہلے یا بعد میں پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
تیسری روزانہ بسنت کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کے تحت موٹرسائیکل سواروں کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے موٹرسائیکلوں کے لیے 10 لاکھ حفاظتی تاریں تقسیم کی ہیں تاکہ ڈور کے خطرات سے بچاؤ ممکن ہو۔
بسنت کے تین دن عوام کے لیے آسان آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے 6 ہزار خصوصی رکشے، 500 بسیں اور 60 ہزار آن لائن کار سروسز بھی فراہم کی جائیں گی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بسنت کے تین دن تمام پبلک ٹرانسپورٹ، بشمول ایپ بیسڈ ٹیکسی سروسز اور سرکاری ٹرانسپورٹ، مفت ہوگی۔
پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی بدستور برقرار ہے، تاہم روایتی بسنت میلے کے انعقاد کے لیے 6 تا 8 فروری تک محدود اجازت دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ مقررہ تین دن اور اوقات کے علاوہ پتنگ بازی غیر قانونی ہوگی۔
نئے قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ پتنگ اور ڈور کی تیاری، ذخیرہ اور فروخت پر 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos