پراپرٹی ٹائیکون اور فیصل ٹائون ہائوسنگ اسکیم کے مالک چوہدری عبدالمجید کے خلاف شکنجہ مزید سخت ہو گیا ۔ قانونی خلاف ورزیاں ثابت ہونے پر مقدمہ درج کرکے ایک گرفتار کرلیاگیا ہے اور نیب نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
سیکڑوں متاثرہ افراد نے فیصل ٹائون کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے فتح جنگ روڈ بلاک کر دیا، جس کے باعث ٹریفک معطل رہی اور علاقہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔
ڈائریکٹر جنرل راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی(آر ڈی اے)کنزہ مرتضیٰ کی ہدایات پرسوسائٹی مالک سمیت چار افراد کے خلاف تھانہ ایئرپورٹ میں ایف آئی آر درج کر لی گئی، مالک کے بھائی چوہدری جاوید کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
ڈی جی آر ڈی اے کنزہ مرتضیٰ نے واضح کیا کہ غیر قانونی ہائوسنگ اسکیموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی اور شہریوں کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
آر ڈی اے ذرائع کے مطابق فیصل ٹائون انتظامیہ پر منظور شدہ لے آئوٹ پلان کی خلاف ورزی، ترقیاتی کام ادھورے چھوڑنے اور شہریوں کو مبینہ مالی نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات ہیں۔ تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ہائوسنگ اسکیم میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ پر کوئی موثر ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ 53پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور نالہ کی ڈویلپمنٹ نہ ہونا بھی قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ثابت ہوئی ہے۔دوسری جانب قریبی دیہات کے مکینوں نے فیصل ٹائون انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سوسائٹی سے سیوریج کا پانی آبادیوں میں چھوڑا جا رہا ہے جس سے شدید ماحولیاتی اور صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ زمینداروں کی ادائیگیاں بھی طویل عرصے سے بقایا ہیں ، ڈویلپمنٹ چارجز کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔
ادھرنیب نے فیصل ٹائون ٹو کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ نیب نے ڈپٹی کمشنر اٹک سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا ۔نیب نوٹس کے مطابق فیصل ٹائون ٹو اسکیم رہائشی زون میں نہیں آتی، نیب نے ڈی سی اٹک سے استفسار کیا ہے کہ کیا غیر رہائشی زون کو رہائشی زون میں بدلا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم کی طرف سے ماحولیاتی ایمرجنسی ڈکلیئیر ہونے کے باجود فیصل ٹائون کو زرعی زمین الاٹ کی گئی۔ ضلعی سکروٹنی کمیٹی اٹک کی رپورٹ کے مطابق فیصل ٹائون ٹو اسکیم کا رقبہ رہائشی علاقے میں نہیں آتا۔سکروٹنی کمیٹی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ قانون کی شق 81کے مطابق رہائشی علاقے سے باہر زمین زرعی اور گرین لینڈ کے زمرے میں آتی ہے ۔فیصل ٹائون ٹو کے لئے مجوزہ زمین رہائشی زون میں نہیں آتی۔
نیسپاک نے بھی اپنی رپورٹ میں فیصل ٹائون ٹو منصوبے کو قدرتی ماحول کے لئے انتہائی خطرناک قرار دے دیا ہے۔ موضع مورت اور ڈھوک کنجری کے علاقے میں دریا اورچاہان ڈیم کی وجہ سے ماحولیاتی طورپر انتہائی حساس علاقے ہیں۔ گزشتہ برس مون سون بارشوں میں اسی علاقے میں شدید سیلاب آیاتھا۔ نیسپاک رپورٹ کے مطابق، زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس علاقے میں ہاوسنگ اسکیم کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی۔ فیصل ٹائون کی زمین پنجاب حکومت کی چاہان ڈیم کے کیچمنٹ کے حوالے سے حساس علاقہ ہے،اس ڈیم سے راولپنڈی کے رہائشیوں کو روزانہ 25 ملین گیلن صاف پانی فراہم کیاجائے گا ۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos