فائل فوٹو
فائل فوٹو

غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا مطلب ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا نہیں: پاکستان

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا ابراہام معاہدے یا کسی متوازی عمل سے کوئی تعلق ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت وزارتِ خارجہ اور تمام متعلقہ اداروں کا اجتماعی فیصلہ ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کیا گیا۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’پاکستان کا بنیادی مقصد بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، تعمیرِ نو میں مدد فراہم کرنا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھانا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ سات دیگر اہم مسلم ممالک، سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی پاکستان کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کی شمولیت کو آٹھ اسلامی ممالک کی اس مشترکہ کوشش کے تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے جس کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا اور فلسطینی مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔

طاہر اندرا بی نے غزہ کے عوام کی مشکلات، اموات اور تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’بورڈ آف پیس غزہ اور وسیع تر فلسطینی مسئلے کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں ہے بلکہ یہ ایک مخصوص مینڈیٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے جسے سلامتی کونسل کی قرارداد نے اختیار دیا ہے۔‘

ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کے نظام کو کمزور نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔‘

طاہر اندرا بی نے یہ بھی واضح کیا کہ ’پاکستان نے ابھی تک ’انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس‘ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا اور بورڈ آف پیس کی رکنیت کا مطلب فوجی دستے بھیجنا نہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔