میگزین رپورٹ:
چین نے چاند کی قیمتی معدنیات اور آئس واٹر پر نظریں جمالی ہیں اور اس کیلئے وہ روس کے ساتھ چاند پر فوجی اڈا بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ چین چاند پر پہلے پہنچ کر اس کے اسٹرٹیجک حصوں کو اپنی ملکیت قرار دے سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایلون مسک اور ناسا کا چاند پر پہنچنے کا خواب سفید ہاتھی بن کر رہ گیا ہے۔ آرٹیمس مشن، جس کا آغاز 2012ء میں بڑی دھوم دھام سے ہوا تھا، آج 14 برس گزرنے کے بعد بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ابھی تک چاند کی سطح پر انسانی قدم پڑنا تو دورکی بات، صرف اس کے راکٹ اورکیپسول کے پرزے جوڑنے پر 93 ارب ڈالر پھونک دیئے گئے ہیں۔ آرٹیمس مشن کا ڈھنڈورا 2012ء میں پیٹنا شروع کیا گیا اور ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکہ 2017ء تک ہر صورت چاند پر پہنچ جائے گا۔ اس کیلئے اب تک درجنوں بار راکٹ اور کیپسول خلا میں بھیجنے کی کوشش کی گئی، لیکن ہر بار تکنیکی خرابیوں اور ناکامیوں کی وجہ سے اس مشن کو منہ کی کھانی پڑی۔ آرٹیمس کے ابتدائی دو مشن ناکام ثابت ہوئے۔ آرٹیمس1، جسے بغیر انسان کے جانا تھا، اپنے آغاز ہی سے مشکلات کا شکار رہا۔
2022ء میں لانچ سے قبل اس راکٹ کو کئی بار فیول لیک ہونے اور انجن کی خرابیوں پر واپس ورکشاپ لانا پڑا اور جب یہ بالآخر خلا میں پہنچا تو اس کی ہیٹ شیلڈ بری طرح متاثر ہوئی۔ جبکہ کیپسول کی واپسی پر اس کی حفاظتی تہہ جھڑنے لگی۔ ایسے کیپسول میں انسان سوار ہوتے تو موت یقینی تھی۔ اسی طرح آرٹیمس2، کو خلا بازوں کے ساتھ چاند کے گرد چکر لگانا تھا۔ یہ مشن بھی تکنیکی اور لائف سپورٹ سسٹم میں خرابیوں کے سبب ناکام رہا اور اسے 2026ء تک مؤخر کردیا گیا۔ اب سب کی نظریں آرٹیمس تھری پر ہیں، جسے ناسا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ قرار دے رہا ہے۔
اس مشن کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ناسا نے چاند کی سطح پر اترنے کا کام ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ مشن چاند کے اس جنوبی قطب پر اترنے کی کوشش کرے گا جہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکا۔ جبکہ جنوبی قطب کا درجہ حرارت انسان کو سیکنڈوں میں جما دینے کیلئے کافی ہے۔
اس مشن کا سب سے پیچیدہ مرحلہ خلا میں ایندھن کی منتقلی ہے۔ ایلون مسک کا اسٹار شپ براہِ راست چاند پر نہیں جا سکتا۔ اسے راستے میں ایک خلائی پٹرول پمپ سے ایندھن بھرنا ہوگا۔ خلا میں ایندھن بھرنے کا یہ طریقہ انتہائی خطرناک ہے، جو آج تک کبھی نہیں آزمایا گیا۔
ناسا کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بار چاند پر پہلی خاتون اور سیاہ فام شخص کو اتار کر تاریخ رقم کرے گا۔ لیکن سائنسی حلقوں میں یہ بحث گرم ہے کہ کیا یہ صرف ایک پبلسٹی اسٹنٹ ہے؟ کیونکہ اگر اسٹار شپ کا لینڈنگ سسٹم اورین کیپسول پھرناکام ہوا تو یہ امریکہ کی خلائی ساکھ کو چین کے مقابلے میں ہمیشہ کیلئے دفن کر دے گا۔ ادھر چین اپنے لونر پروجیکٹ کے ساتھ انتہائی تیزی اور خاموشی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
چین کا ہدف ناسا اور اسپیس ایکس سے پہلے اپنے خلا بازوں کو چاند پر اتارنا ہے۔ اس مشن کو کامیاب بنانے کیلئے چین اپنے خلائی پروگرام پر تقریباً 15 ارب ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔ چین کی سب سے بڑی طاقت اس کا ’چانگ ای‘ (Chang’e) مشن ہے۔ جس نے وہ کر دکھایا جو ناسا بھی نہ کر سکا۔ چین دنیا کا پہلا ملک بن چکا، جس نے چاند کی دوسری طرف (Side Far) سے مٹی کے نمونے کامیابی سے زمین پر پہنچائے۔
ایلون مسک کے اسٹار شپ کے برعکس چین ایک انتہائی مضبوط ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ جسے خلا میں بار بار ایندھن بھرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ چینی منصوبے کا سب سے دلچسپ پہلو چاند پر مستقل فوجی اور سائنسی اڈا بنانا ہے، جس کیلئے اس نے روس کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کے چاند مشن کی سب سے خاص بات اس کا ہائبرڈ ماڈل ہے۔ جہاں وہ انسانوں کو اتارنے سے پہلے روبوٹس کی ایک پوری فوج بھیج رہا ہے۔ چین کا منصوبہ ہے کہ 2030ء تک انسانوں کو بھیجنے سے پہلے وہ اپنے ’چانگ ای‘ سیریز کے جدید ترین روبوٹس اور روورز کے ذریعے چاند کے جنوبی قطب پر ایک خودکار تحقیقی اسٹیشن قائم کرے۔ جو وہاں انسانی رہائش کے امکانات اور پانی کی موجودگی کی تصدیق کریں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos