خیبر : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور صوبے کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کل وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس میں صوبے کے وسائل اور مسائل پر دو ٹوک بات ہوگی۔
خیبر امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے اور ایک بار پھر "ہمارے سروں پر ڈالر” کھائے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلی کے دفتر سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جرگے کے شرکا نے تیراہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اسلام آباد جانے سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ اجتماعی رائے سامنے آ سکے، جس کے بعد ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ حتمی لائحہ عمل طے کرے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے اور عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب شدت پسند پہاڑوں سے نیچے آ رہے تھے، ہم تب بھی چیختے رہے کہ ان کا بندوبست کرو۔ ہمارے گھروں پر ڈرون حملے اور جیٹ بمباری کی گئی۔ مجھے علم تھا کہ کچھ ہونے والا ہے، اسی لیے میں نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اس وقت خیبر پختونخوا کا 4758 ارب روپے کا مقروض ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میرے پیسے نہیں دیتے اور میری عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم قربانیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف آپ پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ مجھے منشیات فروش کہا گیا اور جب وہاں ناکامی ہوئی تو آپریشن کا سہارا لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وادی تیراہ کے متاثرین کو جبری طور پر نکالا جا رہا ہے، جس پر میں نے پہلے ہی آواز اٹھائی تھی۔ہم آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں کہ آپ کی پالیسیاں دہشت گرد اور دہشت گردی، دونوں کو بڑھا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ کسی کو ان پر سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ "یہ میرے لوگ ہیں، میں اپنے عوام کے لیے 4 ارب نہیں بلکہ سو ارب روپے بھی دوں گا۔” انہوں نے حالیہ پریس کانفرنس کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
سہیل آفریدی نے یاد دلایا کہ 2018 میں صوبے میں امن تھا، لیکن غلط پالیسیوں نے دوبارہ حالات خراب کیے۔ کل ہونے والی ملاقات میں وہ صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں وزیر اعظم کے سامنے رکھیں گے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos