صدر آزاد کشمیر اور قائد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو سرکاری و فوجی اعزاز گن کیرج (Gun Carrriage)کے ساتھ ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ اعزاز پاکستان میں صرف 5 شخصیات کو نصیب ہوا۔ ان میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، جنرل محمد ضیاء الحق، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر روتھ فاؤ شامل ہیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا نام بھی گن کیرج کا اعزاز لینے والی انہی باوقار شخصیات کی فہرست میں شامل ہو گیا۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد کشمیر کی پہلی شخصیت ہیں جن کی تدفین گن کیرج کے ساتھ کی گئی۔ ان کی نماز جنازہ قائداعظم اسٹیڈیم میرپور میں ادا کی گئی، جس میں سابق صدور، سابق وزیراعظم، ممبر قانون ساز اسمبلی، اعلیٰ عسکری، سول و سیاسی قیادت، سماجی، مذہبی، اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے موقع پرفضا سوگوار رہی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
صدر گرامی کا جسد خاکی سلطان ہاؤس چیچیاں سے کرکٹ اسٹیڈیم گاڑیوں کے ایک بہت بڑے قافلے کے ہمراہ ، تابوت کو پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی پرچموں میں لپیٹ کر گن کیریج فوجی جیپ میں رکھ کر لایا گیا۔ نماز جنازہ معروف روحانی مرکز گلہار شریف کی ممتاز روحانی شخصیت قاضی محمد رفیق نے پڑھائی۔ دعائے مغفرت کی گئی اور کشمیری کاز کے لیے مرحوم کی طویل سیاسی و سفارتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
تدفین کے بعد ان کے صاحبزادے وزیر حکومت چوہدر ی یاسر سلطان کو قومی پرچم عطا کیا گیا۔نماز جنازہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور،قائمقام صدرو سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، 10 کورکے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر احسن نواز، چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیرراجہ سعید اکرم خان،عدالت عظمی اور ہائیکورٹ کے ججز،موسٹ سینئر وزیرمیاں عبدالوحید کابینہ کے دیگر اراکین، پیپلزپارٹی آزادکشمیرکے صدر چوہدری محمدیاسین،برطانوی پارلیمنٹ میں چیئرمین کشمیر کمیٹی ایم پی بیرسٹر عمران حسین، سابق لارڈ میئر چوہدری الطاف حسین،آزاد کشمیرکے سابق وزرائےاعظم سردار یعقوب،راجہ فاروق حیدرخان،چوہدری انوار الحق،سردار تنویر الیاس، سردار عتیق احمد خان، سردار عبدالقیوم نیازی، سابق صدر سردار مسعود خان،سابق سپیکرشاہ غلام قادر،سابق وزرا،انسپکٹر جنرل پولیس یاسین قریشی، بیوروکریٹس،، چیئرمین علماء مشائخ کونسل صاحبزاد ذوالفقار، پیر صاحبزادہ انجم سرکار، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں، ایم ایل ایز، امیدواران اسمبلی، سول سوسائٹی سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں ملک بھر سے اعلیٰ سیاسی،سرکاری اور سماجی شخصیات بھی آئیں۔
نماز جنازہ کے بعد مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور اپنی ساری مصروفیات ترک کرکے ہسپتال گئے اور بعدازاں میرپور پہنچے۔قبل ازیں عوام کی بڑی تعداد ان کے تابوت کو لے لا نے والی ایمبولنس کو دیکھنے منگلا انٹری پوائنٹ پہنچے اور ایمبولنس کے ساتھ چلے۔اس موقع پر رقت آمیز مناظردیکھنے میں آئے۔
صدرریاست کا جسد خاکی ان کے آبائی گھر کھڑی شریف لے جایا گیا تھاجہاں سے سہ پہر کے وقت بہت بڑے جلوس اور رقت آمیز مناظر کے ساتھ کرکٹ اسٹیڈیم لایا گیا۔شرکاء نے ان کی روح کے ایصال ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کیں۔ ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ و پولیس نے نماز جنازہ کے لئے آنے والوں کے لئے سیکورٹی اور پارکنگ کے لیے بہترین انتظامات کر رکھے تھے، نماز جنازہ کے بعد پولیس کے چاق و چوبند دستہ نے جسد خاکی کو گارڈ آف آنر پیش کرتے ہوئے سلامی دی اور مارچ پاسٹ کیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos