میگزین رپورٹ :
پاکستان کے چین، ایران اور افغانستان سے تعلقات بگاڑنے کیلئے موساد، سی آئی اے اور را کا ٹرائیکا بلوچستان میں سرگرم ہوگیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان اس وقت عالمی جیو پولیٹیکل رسہ کشی کا مرکز بن چکا ہے۔ جہاں بین الاقوامی تجزیہ کار بھارت کے ساتھ ساتھ دیگر پسِ پردہ قوتوں کے کردار کو بھی بے نقاب کر رہے ہیں۔
سی این این، دی واشنگٹن پوسٹ، ہارٹیز، الجزیرہ اور رائٹرز جیسے معتبر میڈیا اداروں کے عسکری ماہرین کے مطابق بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات ایک منظم عالمی پراکسی وار کا حصہ ہیں۔ جس کا مقصد گوادر پورٹ کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کو لگام ڈالنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حملوں کی ٹائمنگ اور پیشہ ورانہ مہارت کسی بڑی انٹیلی جنس ایجنسی کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں لگتی۔ اس میگا آپریشن میں را، موساد اور سی آئی اے کے گٹھ جوڑ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ افغانستان اور ایران میں موجود موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹس چین کے منصوبے کو ناکام کرنے اور پاکستان کے افغانستان اور ایران سے سفارتی تعلقات خراب کرنے کیلئے قندھار اور سیستان کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔
حملہ آوروں نے انٹیلی جنس معلومات اور جدید ہتھیار حاصل کرنے کیلئے ان علاقوں کا استعمال کیا جو بین الاقوامی سرحدوں کے قریب ہیں اور جہاں سکیورٹی فورسز کی رسائی مشکل ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند گروپ اب باقاعدہ اینٹی چائنا الائنس کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان حملوں میں عسکریت پسندوں نے جدید ڈرونز استعمال کیے ہیں، جو اس سے پہلے اس علاقے میں نہیں دیکھے گئے تھے۔ سی پیک اور گوادر پورٹ دراصل چین کا وہ راستہ ہے، جو اسے آبنائے ملاکا کے متبادل کے طور پر بحیرہ عرب تک رسائی دیتا ہے۔ اس منصوبے کی ناکامی کو اسرائیل اپنے اتحادی امریکہ کی بڑی اسٹرٹیجک جیت قرار دیتا ہے۔
عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن سسٹم وہی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کی مختلف جنگوں میں دیکھا گیا۔ ان کا اشارہ ان ہتھیاروں کی طرف ہے، جو امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں رہ گئے تھے۔ امریکہ نے حال ہی میں بلوچستان کے معدنی شعبے میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے، جسے ماہرین چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کیلئے معاشی مقابلے کا نام دے رہے ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بھارت کے ساتھ بڑھتی دفاعی شراکت داری بلوچستان میں براہِ راست اثرانداز ہو رہی ہے۔ اسرائیل کیلئے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت ایران اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی پیداکرنا ایک سستا ذریعہ ہے۔ موساد کی بلوچستان میں دلچسپی براہِ راست پاکستان سے زیادہ ایران سے جڑی ہے۔
موساد کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ ایران کو اپنے مغربی محاذ سے ہٹا کر اس کی اپنی مشرقی سرحد (سیستان، بلوچستان) پر الجھاسیا جائے۔ اس سے سلسلے میں آئندہ دنوں میں ایران پر حملے کیلئے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کے امکانات واضح ہیں۔ بلوچستان کے دشوار گزار راستے عسکریت پسندوں کیلئے ایگزٹ اور انٹری پوائنٹ بن سکتے ہیں۔
اسی طرح بلوچستان میں ریکوڈک اور دیگر سونے و تانبے کے ذخائر پر قبضے کی دوڑ میں سی آئی اے کے سائے دیکھے جا رہے ہیں۔ تاکہ یہ قیمتی وسائل چین کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔ امریکی میڈیا میں یہ بحث عام ہے کہ واشنگٹن کیلئے بلوچستان، چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کی کمزور ترین رگ ہے۔ گوادر پورٹ کو غیرفعال بنانا تاکہ چین کوبحیرہ عرب تک رسائی نہ مل سکے۔
حالیہ حملوں میں زیر استعمال امریکی ساختہ ہتھیار بلوچ عسکریت پسندوں کے ہاتھ میں دیکھے گئے ہیں۔ یہ ایک بڑا ثبوت ہے کہ اسلحہ دانستہ طور پر ان تک پہنچنے دیا گیا۔ یورپی یونین کے کچھ انٹیلی جنس اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان لبریشن کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کو بیرونِ ملک سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھاری فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچ عسکریت پسندوں کے پاس ایسے انکرپٹڈ سیٹلائٹ فونز اور تھرمل امیجنگ گنز دیکھی گئی ہیں جو عام طور پر صرف نیٹو یا موساد کے اسپیشل یونٹس کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں۔ یہ ہتھیار بلیک مارکیٹ سے نہیں خریدے گئے۔ بلکہ باقاعدہ اسٹیٹ ایکٹر نے انہیں آپریشنل ٹیسٹنگ کے نام پر فراہم کیے۔
حملوں کے دوران گوادر اور کوئٹہ کے بعض علاقوں میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ صرف سیکورٹی فورسز نے نہیں کیا، بلکہ عسکریت پسندوں کے پاس موجود ایسے جیمرز نے کیا جو بیرونی ممالک سے سپلائی کیے گئے تھے۔ دشمن ایجنسیوں نے بلوچستان میں کام کرنے والے چینی انجینئرز اور اہم سویلین افسران کی ایک ہٹ لسٹ بھی تیار کر رکھی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos