اسلام آباد: ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے ‘امت ڈیجیٹل’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نیپا وائرس کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان میں فی الحال اس کا کوئی بڑا آؤٹ بریک نہیں لیکن جغرافیائی قربت اور وائرس کی نوعیت کے پیشِ نظر احتیاط لازم ہے۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بتایا کہ بھارت کے بعض حصوں میں نیپا کے کیسز سامنے آنے کی وجہ سے پاکستان کو الرٹ رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ پرندے اور چمگادڑیں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔یہ وائرس انتہائی خطرناک ہے جس میں شرحِ اموات 40% سے 75% تک ہو سکتی ہے، جو اسے کرونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک بناتی ہے۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان کے مطابق، نیپا وائرس ایک زونوٹک (Zoonotic) بیماری ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ یہ وائرس بنیادی طور پر درج ذیل ذرائع سے پھیلتا ہے:پھل خور چمگادڑیں (Fruit Bats): وائرس کا اصل ذریعہ ہیں، ایسے پھل جنہیں چمگادڑ نے کھایا ہو یا ان پر اس کا لعاب/فضلہ گرا ہو۔
خاص طور پر خنزیر یا دیگر مویشی جو چمگادڑ کے رابطے میں آئے ہوں، متاثرہ مریض کے فضلے یا رطوبتوں کے براہِ راست رابطے سے۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان نے عوام الناس کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے، درختوں سے گرے ہوئے یا پرندوں کے کترے ہوئے پھل ہرگز نہ کھائیں۔ پھلوں کو اچھی طرح دھو کر اور چھیل کر استعمال کریں۔
انھوں نے بتایا کہ صابن سے بار بار ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں، خاص طور پر جانوروں کے قریب جانے کے بعد۔کچی کھجور کے رس یا اس سے ملتی جلتی اشیا کے استعمال میں احتیاط برتیں کیونکہ چمگادڑیں اکثر ان درختوں پر ڈیرہ ڈالتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ اگر کسی شخص میں گردن توڑ بخار یا شدید سانس کی تکلیف کی علامات ہوں، تو اس سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور فوری طبی امداد حاصل کریں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos