فن لینڈ کے ایک اسٹارٹ اپ "TheStorage” نے دنیا کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے ایک ایسا حل ڈھونڈ نکالا ہے جس کا تصور کرنا بھی مشکل تھا۔ جنوری 2026 میں ایک مقامی بریوری میں نصب کیا گیا یہ نیا سسٹم عام ریت کو استعمال کر کے توانائی کے بلوں میں 70 فیصد تک حیرت انگیز کمی لاتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی میں قابل تجدید بجلی کے ذریعے ریت کو 800 ڈگری سیلسیس تک گرم کیا جاتا ہے اور اسے بڑے سائلوز میں ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم روایتی بیٹریوں یا ہیٹنگ سسٹم کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تیزی سے حرارت منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے فیکٹریوں کو مہنگی گیس اور تیل کے بجائے سستی اور صاف ستھری توانائی فراہم ہوتی ہے۔
اس ایجاد کی سب سے بڑی خاصیت اس کی سادگی اور کارکردگی ہے۔ جب سورج یا ہوا سے وافر مقدار میں سستی بجلی پیدا ہوتی ہے، تو یہ نظام اسے ریت میں حرارت کی شکل میں محفوظ کر لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے بھاپ یا گرم ہوا کی صورت میں صنعتی کاموں کے لیے فراہم کرتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی 90 فیصد تک کمی آتی ہے، جو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اتنی لچکدار ہے کہ اسے چھوٹی فیکٹریوں سے لے کر بڑے صنعتی یونٹس تک کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو دنیا بھر کی صنعتوں کو فوسل فیول سے نجات دلا کر ایک سستے اور محفوظ مستقبل کی راہ دکھا رہی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos