ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات نہ ہونے پر سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں، جہاں انہوں نے ملاقات کے حق سے متعلق درخواست دائر کرنے کے لیے بائیومیٹرک مکمل کروائی۔
درخواست میں شیریں مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ مقررہ دن پر اڈیالہ جیل میں بیٹی اور داماد سے ملاقات کے لیے گئیں، تاہم جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جو جیل قوانین کے منافی ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قیدیوں سے اہلِ خانہ کی ملاقات جیل قوانین کے تحت ایک بنیادی حق ہے، اسی بنیاد پر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ماں ہیں اور بیٹی سے ملاقات ان کا فطری اور قانونی حق ہے، جبکہ داماد سے ملاقات کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔
بریکنگ نیوز: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے میری ملاقات نہیں کرائی جا رہی، اسلام آباد ہائیکورٹ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ملاقات کرانے کا حکم دے، ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی pic.twitter.com/pAqOjBt0o5
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) February 3, 2026
شیریں مزاری نے درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو ملکی قوانین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کا حوالہ بھی دیا، جن پر پاکستان دستخط کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ملاقات سے روکنا ذہنی اذیت کے مترادف ہے، جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ پاکستان کے اپنے قوانین کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے اور ایسے اقدامات سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شیریں مزاری کے مطابق اگر پاکستان بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کا دعویدار ہے تو اسے عملی طور پر بھی ان اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos