خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، فائل فوٹو
خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، فائل فوٹو

یہ نہیں ہوسکتا، کام افسران نہ کریں اور گالیاں ہم کھائیں، مرتضیٰ وہاب

کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے  کہا ہے کہ  یہ نہیں ہوسکتا افسران کام نہ کریں اور گالیاں ہم کھائیں،  منافقوں کا کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے  کہا کہ جہاں کوتاہی نظر آئے گی وہاں افسر کے خلاف کارروائی ہوگی، شہرمیں الزام ایک ادارہ دوسرے ادارے پر اور ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت پر ڈالتی ہے، ٹرانفسر پوسٹنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے، مگر مسائل کو حل کرنا ہے،  شہر کام کا طلب گار ہے، ہمیں مل کر شہر کے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔  ایسا نہیں ہوسکتا کہ سیاسی رہنماؤں پر تنقید ہو افسران کے خلاف کارروائی نہ ہو، یہ نہیں ہوسکتا کہ افسران کام نہ کریں اور گالیاں ہم کھائیں، میں بھروسہ کرتا ہوں لوگوں پر جب وہ ذمہ داری کا کہتے ہیں، 26 سڑکوں پر ساڑھے 5 ارب خرچ کیے جائیں گے، منافقوں کا کچھ نہیں کہہ سکتا کہاں سڑکیں بنا رہے ہیں، یہ میری عوام کا پیسہ ہے، میرا ذاتی پیسہ نہیں ہے نہ ہی چندے کا ہے۔

میئر کراچی نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آگ لگ جاتی ہے بجھ جاتی ہے، جس کا نقصان ہوتا ہے اس سے پوچھو کیا گزرتی ہے،  ہمارے ہاں ایک ٹرینڈ بن گیا ہے سانحات پر ہم سیاست کرتے ہیں۔ سب کی ذمہ داری ہے ڈومین میں رہتے ہوئے کام کریں، کوئی شہری نہیں چاہتا ادارے آ کر اس کو بتائیں میں کام نہیں کرسکتا، کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی بھی اس شہر کی بہتری کے لیے کام کریں گے، یونیورسٹی روڈ ، اولڈ سٹی ، آئی آئی چند دیگر روڈ کی سڑک کو بہتر کریں گے،4 کوریڈور کو بھی بنانے جا رہے ہیں، پہلوان گوٹھ ، شاہراہ فیصل سے ناتھا خان تک جانے والے راستے  پرکوریڈور بنائیں گے، راشد منہاس روڈ اور سرشاہ سلیمان روڈ پر کوریڈور بنائیں گے، کوشش کر رہے ہیں وسائل کو احسن انداز سے خرچ کریں۔

میئر کراچی کاکہنا تھا کہ انتخابات کا منشور تھا لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کریں، کورنگی کازوے برج ہم نے کھول دیا ہے، مرغی خانہ برج کو مارچ تک کھول دیں گے اورکیٹل کالونی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے برج کا کام فروری تک مکمل کرلیں گے۔

عدم اعتماد کے سوال پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کیا وزیر اعظم گھر جا رہےہیں؟ اگر وزیراعظم نہیں جا رہے تو میں بھی نہیں جارہا،  مصطفیٰ بھائی  وزیر اعظم سے پوچھنا ، یہ ماجرا کیا ہواہے،  وزیر اعظم صاحب گل پلازا سانحہ کے بعد یہاں آئے نہیں، خالد مقبول صدیقی ، مصطفیٰ کمال بھی گل پلازا نہیں گئے، حافظ نعیم گئے تھے مگر ان کا پوسٹر  نظر نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔