فائل فوٹو
فائل فوٹو

رمضان سے قبل افغانوں کی واپسی کیلیے بڑا آپریشن متوقع

محمد قاسم :

وفاقی اور خیبرپختونخواہ حکومتوں نے بیس لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق مشترکہ حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ اب کسی بھی افغان شہری کیلئے ویزا اور قانونی دستاویزات کا ہونا لازمی قرار دے دیاگیا بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ کوہاٹ سے افغان مہاجرین کی واپسی کے انتظامات بروقت یقینی بنانے کی یقین دہانی مل گئی۔

سوات، ڈی آئی خان، ایبٹ آباد، ہر ی پور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ میں آپریشن کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئیں اور رمضان المبارک سے قبل غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا امکان ہے۔

ذرائع کے بقول ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں افغان باشنوں کی واپسی کے حوالے سے بتایاگیا کہ اب تک لگ بھگ 20 لاکھ افغان باشندے واپس جا چکے ہیں اور مزید 20 لاکھ سے زائد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں گی ۔ واضح رہے کہ پاکستان میں رہنے والے کسی بھی افغان شہری کے لئے ویزا اور قانونی دستاویزات کا ہونا لازمی ہے بصورت دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

اسی حوالے سے صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر کی خصوصی ہدایت پر افغان مہاجرین کی منظم واپسی کے انتظامات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دلنواز خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کوہاٹ پولیس کے اعلیٰ افسران، ڈی اے افغان مہاجرین کیمپس کے نمائندگان اور افغان مہاجرین کے مشران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو خوش اسلوبی ، احترام اور سہولت کے ساتھ مکمل کرنے سے متعلق مختلف پہلوئوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا اور شرکا نے سیکiورٹی ، ٹرانسپورٹ ، رجسٹریشن اور دیگر انتظامی امور پر تجاویز پیش کیں تاکہ واپسی کے دوران کسی قسم کی دشواری یا رکاوٹ پیش نہ آئے۔

ذرائع کے مطابق کوہاٹ میں فی الحال کسی بڑے آپریشن یا کریک ڈائون کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جارہا اور انتظامیہ کی کوشش ہے کہ جتنے بھی افغان باشندے یہاں پر غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ان کو دستیاب وسائل کے مطابق اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے اور واپسی کے عمل میں ان کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں۔ تاہم ذرائع کے بقول اگر پھر بھی افغان باشندے واپسی کے مراحل میں تعاون نہیں کرتے اور اپنے وعدوں سے مکر جاتے ہیں تو پھر ان کے خلاف کریک ڈائون شروع کر دیا جائے گا اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔ کیونکہ رمضان المبارک سے قبل ملک کے مختلف شہروں اور خاص کر پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جس میں گرفتاریاں اور املاک و تجارتی مراکز کو بھی سیل کیا جا سکتا ہے ۔

واضح رہے کہ ضلع نوشہرہ کی تحصیل پبی ، اکوڑہ خٹک اور اکبر پورہ میں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد مقیم ہے اور اسی طرح پشاور کے مضافاتی علاقوں میں بھی افغان مہاجرین کاروبار کر رہے ہیں اور فی الحال ان کے خلاف کوئی سخت کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ جب کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد افغان مہاجرین پر کڑی نظر رکھنے سمیت ان کے انخلا میں تیزی لانے اور واپس نہ جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔