دہشت گردی کا خاتمہ صرف طاقت سے نہیں، وجوہات ختم کرنا ہوں گی،حافظ نعیم

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کا حل صرف طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے بنیادی اسباب کے خاتمے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ناانصافی، محرومی اور بدانتظامی ختم نہیں کی جاتی، امن قائم نہیں ہو سکتا۔

منصورہ میں جماعت اسلامی کے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت سے ناجائز قبضہ چھڑوانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کشمیر اور فلسطین جیسے اہم قومی اور عالمی مسائل پر حکمرانوں کی خاموشی اور کمزوری باعثِ تشویش ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کی شمولیت کے بغیر کسی بھی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا، جبکہ غزہ کے معاملے پر ایسے عالمی فورمز کا حصہ بننا غلط ہے جو فلسطینی مؤقف کے خلاف ہوں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کا قیام عدل و انصاف کے نظام کے لیے عمل میں آیا تھا، نہ کہ اس لیے کہ چند خاندان اقتدار اور وسائل پر قابض رہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رائے کو دباکر فارم 47 جیسے طریقوں سے حکومتیں مسلط کی جائیں گی تو مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ جماعت اسلامی افراد نہیں بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کر رہی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت اور کراچی کی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ملک کی معیشت کا مرکز اور تمام قومیتوں کا شہر ہے، اسے خاندانی یا لسانی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پر مسلط جعلی حکومت سے نجات عوام کا حق ہے اور جماعت اسلامی اس مقصد کے لیے عوامی طاقت سے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جدوجہد کے تحت دیا جانے والا احتجاجی دھرنا روکنا حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی بدامنی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو محض فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ ان حالات کو بدل کر روکا جا سکتا ہے جن میں دہشت گردی کو مقامی سطح پر سہولت ملتی ہے، جو ریاستی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق بلوچوں اور قبائلی علاقوں کے عوام کو عزت، انصاف اور برابری درکار ہے۔

انہوں نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو بدترین گورننس کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ یہ نظام چلا پا رہی ہیں اور نہ ہی عوام کو سہولت دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جا رہے اور بلدیاتی نظام کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ آئین اس کی واضح ہدایت دیتا ہے۔

حافظ نعیم نے برین ڈرین کو ملک کا بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ ٹیلنٹ ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کمایا جائے، اور اسے ایک بیمار سوچ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر ملک میں روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں تو قابل افراد باہر جانے پر مجبور نہیں ہوں گے۔

انہوں نے نجکاری پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اداروں کو کرپشن اور نااہلی کے ذریعے تباہ کیا جاتا ہے اور پھر انہیں فروخت کر کے کامیابی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ اگر گورننس واقعی بہتر ہے تو قومی اداروں کو آؤٹ سورس یا فروخت کیوں کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے، جس کا مقصد ذاتی یا گروہی فائدہ نہیں بلکہ عوامی خدمت اور منصفانہ نظام کا قیام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی میں مسلک، زبان یا نسل کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔

نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثریتی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور جماعت اسلامی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی کو منظم کر کے ایک واضح لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھائے گی تاکہ پاکستان کو قابض قوتوں سے نجات دلائی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔