فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے بائیکاٹ نے سٹے بازوں کا کھیل بگاڑ دیا

امت رپورٹ:

ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی میں بھارتی میچ کے پاکستانی بائیکاٹ سے جہاں انڈین براڈ کاسٹرز کو ڈیڑھ کھرب روپے (پانچ سو ملین ڈالر) نقصان ہوگا۔ وہیں کرکٹ پر غیر قانونی جوا کرانے والے بکیوں کو بھی زبردست مالی جھٹکا لگے گا۔ دلچسپ امر ہے کہ کرکٹ پر جوا کرانے والوں میں بھی اکثریت بھارتی بکیوں کی ہے۔

سات فروری سے شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے مابین پندرہ فروری کو شیڈول میچ کا بکیوں کو بے چینی سے انتظار تھا۔ تاہم پاکستان نے بائیکاٹ کا اعلان کرکے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ سٹے کی عالمی مارکیٹ سے جڑے ذرائع کے بقول اتوار کے روز شیڈول اس میچ پر ماضی کے مقابلے میں زیادہ جوا کھیلنے کی توقع تھی۔ کیونکہ مئی کی مختصر جنگ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی ذلت آمیز شکست کے بعد دونوں ممالک کے تماشائیوں کا جوش پہلے سے زیادہ ہے۔

جواری بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ اس مختصر جنگ کے بعد دونوں ٹیمیں پہلی بار ستمبر میں ایشیا کپ کے دوران آمنے سامنے آئی تھیں۔ اس ایونٹ میں دونوں ٹیموں کے مابین ہونے والے تین میچوں پر کھیلے گئے سٹے کا حجم ماضی کے مقابلے میں دگنا تھا۔ اس لیے بکیز یہ توقع کر رہے تھے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اس سے بھی زیادہ مال کمالیں گے۔ لیکن پاکستان کے فیصلے نے بھارتی براڈ کاسٹرز کے ساتھ ساتھ بکیوں کی نیند بھی اڑادی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کسی بھی ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے مابین ہونے والے میچوں میں اربوں نہیں کھربوں روپے کا جوا کھیلا جاتا ہے۔ جبکہ قانونی طور پر لگائی جانے والی شرطیں بھی اربوں روپوں میں ہوتی ہیں۔ دبئی اور ممبئی میں سٹے کی عالمی مارکیٹ سے جڑے ذرائع کے مطابق چونکہ لگ بھگ اٹھارہ برس سے پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی جارہی ہیں۔ لہٰذا صرف آئی سی سی ایونٹ میں ہی دونوں ممالک آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ چنانچہ بین الاقوامی اور مقامی بکیز کو ایسے ایونٹس کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے۔ تاکہ وہ دونوں ہاتھوں سے مال کما سکیں۔ یہ ایونٹس ان بکیوں کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں ہوتے۔

گزشتہ برس ستمبر میں متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے ایشیا کرکٹ کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں تین بار آمنے سامنے آئیں۔ چودہ ستمبر کو گروپ میچ ہوا۔ اکیس ستمبر کو سپر فور میں ٹکرائیں اور اٹھائیس ستمبر کو دونوں روایتی حریفوں کے درمیان فائنل کھیلا گیا۔ دبئی کی عالمی سٹہ مارکیٹ کے ذرائع سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ان تینوں میچز پر دو سے ڈھائی کھرب روپے کا جوا کھیلا گیا تھا۔ بھارتی انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے رہنما سنجے راوت نے تو یہ دعویٰ کر ڈالا کہ صرف اس ایک پاک بھارت گروپ میچ پر ڈیڑھ کھرب انڈین روپے کا جوا کھیلا گیا، جو پاکستانی ساڑھے چار کھرب روپے بنتے ہیں۔

اسی طرح گزشتہ برس فروری میں ہی ہونے والی کرکٹ چیمپئن ٹرافی کے گروپ اسٹیج پر پاکستان اور بھارت کے میچ پر پچاس ارب روپے کا جوا کھیلا گیا تھا۔ تاہم سٹے کی دنیا سے جڑے ذرائع یہ رقم پچھتر ارب روپے کے قریب بتاتے ہیں۔ اس ایونٹ میں سٹے کے عالمی نیٹ ورک سے جڑے کئی بدنام زمانہ بھارتی بکیوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے ہاتھوں گرفتار ان بکیوں میں پراوین کوچر اور سنجے کمار بڑے نام تھے۔ ان میں پراوین کوچر نے ’’لکی ڈاٹ کام‘‘ نامی ویب سائٹ سے ایک ماسٹر آئی ڈی خریدی تھی، جسے استعمال کرکے وہ جوئے کی آئی ڈی تیار کرتا تھا اور اسے پنٹروں (جوا کھیلنے والے) کو فروخت کرتا تھا۔

یوں زیادہ تر جوا آن لائن کھیلا جاتا تھا۔ سٹے کی دنیا سے جڑے ذرائع کے مطابق گزشتہ پندرہ بیس برس سے آف لائن جوئے کی جگہ آن لائن جوئے نے لے لی ہے۔ ایک وقت تھا جب زیادہ تر جوا آف لائن کھیلا جاتا تھا۔ اس کے لیے عالمی نیٹ ورک سے جڑے بکیز مقامی طور پر بکیں کھول کر جوا کراتے تھے اور بعض اوقات رقوم کا لین دین بھی کیش میں ہوتا تھا، یا رقم متعلقہ بینک اکائونٹس میں منتقل کر دی جاتی تھی۔ جواری اپنے متعلقہ جوئے خانے پر آکر غیر قانونی شرطیں لگاتے تھے یا ٹیلی فون پر یہ شرطیں لگائی جاتی تھیں۔ تاہم ذرائع کے بقول اب ستّر سے پچھتر فیصد جوا ڈیجیٹل ہوچکا ہے۔ اس میں پکڑے جانے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بکیز مختلف ویب سائٹس کے ذریعے آن لائن جوا کرا رہے ہیں۔

ویب سائٹس کی مدد سے کرکٹ پر جوا کرانے والے بدنام بھارتی بکیوں میں ایک نام دہلی کے رہائشی چھوٹو بنسل کا بھی ہے، جس نے کینیڈا میں ’’بیٹنگ ایپ‘‘ تیار کی تھی اور اب وہ دبئی میں مقیم ہے۔ دہلی سے ہی تعلق رکھنے والا ایک اور بکی ونے بھی دبئی سے آپریٹ کرتا ہے اور میچوں کے دوران کرکٹ گرائونڈ سے لائیو فیڈ بیک دیتا ہے۔ اس کے ساتھیوں میں بوبی، گولو، نتن جین اور جیتو شامل ہیں۔ دیگر بھارتی بکیز میں منیش سہانی، یوگیش کوکیجا اور سورج شامل ہیں۔ یہ سب بھارتی پولیس کے ہاتھوں متعدد بار گرفتار ہو چکے ہیں۔ تاہم گرفتاری کے کچھ عرصے بعد ضمانت پر باہر آجاتے ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران ان بکیوں نے انکشاف کیا تھا کہ مانو مٹکا، اکشے گہلوت، رنکو اور امان راجپوت وہ بکیز ہیں، جنہوں نے بھارت سے باہر عالمی سنڈیکیٹ کے ذریعے استعمال ہونے والی ’’سٹہ بیٹنگ ایپ‘‘ تیار کی تھی۔

آئی سی سی کے اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کے ریکارڈ کے مطابق کرکٹ پر غیر قانونی جوئے کی دنیا پر چند اہم افراد اور نیٹ ورکس کا غلبہ ہے، جو زیادہ تر جنوبی ایشیا، متحدہ عرب امارات اور لندن سے کام کرتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں پہلے زیادہ تر پورا میچ فکس کیا جاتا تھا۔ تاہم بکیز اب ’’اسپاٹ فکسنگ‘‘ اور ’’سیشن فکسنگ‘‘ یا ’’فینسی فکسنگ‘‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کے لیے صرف ایک یا دو کھلاڑیوں کو خریدنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بکیز اکثر انڈر ورلڈ سے اپنا تعلق چھپانے کے لیے اپنی مجرمانہ تنظیم کو صرف ’’دی کمپنی‘‘ یا ’’دی پارٹی‘‘ کہتے ہیں۔

آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ سٹے بازی کے غیر معمولی نمونوں پر نظر رکھتا ہے اور مشکوک میچوں کے ٹیپس کا تجزیہ کرتا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے گمنام طور پر لگائی جانے والی بہت سی غیر قانونی شرطوں کی نگرانی کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ اس کے سبب غیر قانونی جوئے کا نیٹ ورک وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ دو ہزار انیس میں بی بی سی انگلش میں شائع ایک رپورٹ میں آریان نامی ایک بھارتی بکی سے کی گئی بات چیت میں بتایا گیا تھا کہ آن لائن جوئے پر نظر رکھنا ایک پیچیدہ سسٹم ہے، جس میں موبائل ایپس اور ری ڈائریکٹ ویب سائٹس شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ بھارت کی زیر زمین جوا مارکیٹ کے حجم کی حد تقریباً پینتالیس ارب ڈالر سے ایک سو پچاس ارب ڈالر تک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔