لاہور: پاکستان میں تولیدی عمر کی پندرہ سے بیس فیصد خواتین پولی سسٹک اووری سنڈروم کا شکار ہیں، یعنی ملک بھر میں تقریباً اسی لاکھ سے ایک کروڑ خواتین اس ہارمونل مرض کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پی سی او ایس تیزی سے بڑھتا ہوا مگر بڑی حد تک تشخیص سے محروم رہنے والا ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے جو نوجوان لڑکیوں اور شادی شدہ خواتین دونوں کو متاثر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بانجھ پن کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
یہ انتباہ لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں “ڈسکورنگ پی سی او ایس” کے عنوان سے شروع کیے گئے ایک آگاہی پروگرام کے موقع پر کیا گیا، جہاں شہر کے بڑے اسپتالوں سے تعلق رکھنے والی سینئر ماہر امراضِ نسواں نے اس مرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور بروقت تشخیص و مسلسل آگاہی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق پی سی او ایس ایک پیچیدہ ہارمونل اور میٹابولک بیماری ہے جس میں ماہواری کی بے قاعدگی یا بندش، جسم میں مردانہ ہارمونز کی زیادتی، وزن میں اضافہ، کیل مہاسے، چہرے یا جسم پر غیر ضروری بالوں کی افزائش اور بیضہ دانی میں رسولیاں بن جانا شامل ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ پی سی او ایس اب امراضِ نسواں کے کلینکس میں سامنے آنے والی عام ہارمونل بیماریوں میں شامل ہو چکا ہے، خاص طور پر نوعمر اور نوجوان خواتین میں اس کے کیسز زیادہ دیکھے جا رہے ہیں، مگر سماجی جھجک، لاعلمی اور ماہر ڈاکٹروں تک محدود رسائی کے باعث بڑی تعداد میں مریضات برسوں تک تشخیص کے بغیر رہتی ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos