پالیسی اور منصوبہ بندی کی ناکامی سے ملک میں آلو کی کثیر پیداوار اور وسیع پیمانے پر فراہمی نے بحران پیداکردیا ہے۔طلب سے زیادہ پیداوار مارکیٹ میں کریش کا باعث بن گئی۔مقدار اتنی بڑھ گئی کہ آلو کو مویشیوں کے لیے چارے میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔حالیہ برسوں میں، آلو کی فصل سے نسبتاً زیادہ منافع حاصل ہونے پرپنجاب اور خیبر پختونخوادونوں میں کسانوں نے رقبوں میں نمایاں اضافہ کیا۔
2024ء میں پاکستان بہترین پیداوار حاصل کرکے آلو کاشت کرنے والے 10 بڑے ملکوں کی فہرست میں شامل ہوا تھا۔ جس کے بعد آلو کے رقبے میں 14فیصد اضافہ ہوا، جو 9.4ملین ٹن پیداوار کے ساتھ ساڑھے 9لاکھ ایکڑ تک پہنچ گیا۔ پنجاب میں، جو ملک بھرکا تقریبا 95 فیصد آلو پیدا کرتا ہے، 2025-26میں رقبے میں مزید 24فیصد اضافہ ہوا۔رواں سال موافق موسمی حالات کی وجہ سے بمپر فصل کاشت ہو رہی ہے۔
2025-26 سیزن میں پیداوار 12ملین ٹن تک پہنچنے کی امید ہے۔ حکومت اس بڑھتے ہوئے رجحان کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی اور گزشتہ سالوں میں اس کے مطابق برآمدات میں اضافہ نہیں کیا۔ آلوسے تیار مصنوعات کی ملک میں کھپت اور برآمدات بھی پیداوار میں اضافے سے پیچھے رہ گئی ہیں۔مارکیٹ پر دبا ئوبڑھانے کا ایک اور عنصر کولڈ اسٹوریج کی سہولیات میں پچھلے سال آلو کا ذخیرہ ہے۔ پاک ،افغان سرحد کی بندش سے، یہ اسٹاک جنوری کے وسط تک رہا۔نتیجہ یہ کہ فصل کو اب تک نہ تو برآمد کیا گیا ہے اور نہ مقامی منڈی میں قابل ذکر مقدار میں جذب کیا گیا ہے۔
موجودہ فصل کا 80فیصد سے زیادہ ابھی آنا باقی ہے۔ آلو کی گرتی قیمتوں سے کاشت کاروں کے ساتھ مڈل مین بھی پریشان ہیں اور ڈھائی تین لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت والی فصل کے 50ہزار دینے والا بھی کوئی نہیں جس کے باعث نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا۔زیادہ پیدوار کی وجہ سے آلو اسٹور کرنے میں بھی گھاٹا ہے۔اسٹور مالکان کے مطابق جو کاشت کار آلورکھوا گئے تھے وہ بھی لینے نہیں آرہے، مجبورا ًہم جانوروں کے چارے کے طورپر اونے پونے داموں بیچ رہے ہیں۔ بہت سے کسانوں اور برآمد کنندگان کا خیال ہے کہ سرحد کو دوبارہ کھولنے سے بحران کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن ، ماہرین کا کہناہے کہ پیداوار کی سطح اس قدر غیر معمولی ہے کہ ا س کے باوجود، جزوی ریلیف مل سکتا ہے حکومت نے اب تک اس بحران سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں کیا، سوائے 5دسمبر 2025کو وزارت تجارت کی طرف سے ایران کے راستے متبادل راستے سے برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، اس راستے پر زیادہ فریٹ چارجز عائد ہوتے ہیں، جو ان منڈیوں میں پاکستانی آلو کی قیمت کی مسابقت پر منفی اثر ڈالنے کا باعث بنتے ہیں۔
معاشی ماہرین کی تجویزہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے، حکومت برآمد کنندگان، پروسیسرز، اور اسٹاکسٹس کو بلاسود قرضوں کے ساتھ کٹائی کے عروج میں آلو کی خریداری اور دسمبر 2026تک سال بھرکے گھریلو استعمال اور برآمدات کے لیے ذخیرہ کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔مزید برآں، برآمد کنندگان کی مدد کرنے اور لاگت کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے، حکومت کوبرآمد کے لیے ایران کے راستے پر آنے والے اضافی فریٹ چارجز کو بھی پورا کرنا چاہیے۔ کاشت کاروں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس وقت وہ مشکلات کا شکار ہیں، مزید تباہی سے بچانے کیلئے ایکسپو رٹ کا راستہ نکالا جائے اور ان کی مدد کی جائے ورنہ نئی فصل اگانا ممکن نہیں گا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos