نمائندہ امت :
لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت کے باعث تحریک انصاف کا احتجاج دھرے کا دھرا رہ جانے کا امکان ظاہر کیا جانے لگا ہے۔ جس کے باعث احتجاج کی تاریخ تبدیل کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ہی کرنا ہے۔ لیکن پنجاب میں احتجاج کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور سندھ میں تحریک انصا ف کو فری ہینڈ ملنا مشکل ہے۔ ایسے میں احتجاج صرف پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں تک محدود ہونے کا امکان ہے۔ جس پر تحریک انصاف کی قیادت کو بھی تشویش لاحق ہو گئی ہے۔
تاہم ذرائع کے بقول پی ٹی آئی رہنمائوں نے احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے تاجر برادری سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ لیکن اس وقت لاہور میں جس انداز سے بسنت کی تیاری اور تشہیر کی جارہی ہے، تحریک انصاف کیلئے لاہور کو بند کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔
دوسری جانب پشاور سے لاکھوں روپے کے پتنگیں اور ڈور لاہور لے جائی جانے لگیں۔ جبکہ صوبہ بھر سے شہریوں کی بڑی تعداد بسنت منانے لاہور پہنچ رہی ہے۔ پشاور کے یکہ توت منڈا بیری بازار میں اس وقت خریداروں کا رش لگا ہوا ہے۔ پشاور میں عمومی طور پر بڑی پتنگ کی قیمت 100 سے 150 روپے مقرر ہے۔ تاہم اب اس کی قیمت 250 روپے تک جا پہنچی ہے۔ جو لاہور کے موچی گیٹ میں 350 سے 400 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔
اسی طرح ڈور کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شہری علاقے ہشت نگری سے خریداری کیلئے آنے والے ایک نوجوان منیر خان نے بتایا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ لاہور جارہے ہیں۔ جہاں وہ بسنت بھرپور طریقے سے منائیں گے۔ کیونکہ بہت عرصے بعد بسنت منائی جارہی ہے اور وہ اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے بتایا کے ان کے رشتہ دار لاہور میں مقیم ہیں اور وہ ان کے گھر میں ہی چھت پر بسنت منائیں گے۔ انہوں نے عوام کو تفریح کے مواقع فراہم کرنے پر پنجاب حکومت کی تعریف بھی کی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ جس نے وفاق میں ایک بار اور صوبے میں مسلسل تیسری مرتبہ حکومت ملنے کے باوجود عوام کیلئے کچھ نہیں کیا اور اب عوام کے تلخ سوالات کے عجیب و غریب جوابات دیئے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ پشاور سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اہلخانہ کے ہمراہ لاہور جا چکے ہیں۔ جبکہ آج 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی چھٹی کے موقع پر بہت سارے افراد جس میں زیادہ شہری نوجوانوں کی ہے، لاہور کا رخ کریں گے۔ اسی طرح ذرائع کے بقول صوبے کے دیگر اضلاع سے بھی بسنت منانے کیلئے نوجوانوں کی بڑی تعداد لاہور کا رخ کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے تحریک انصاف قوی امکان ہے کہ تحریک انصاف کا احتجاج دھرے کا دھرا رہ جائے۔ تاہم 8 فروری کو پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کیلئے پی ٹی آئی نے تاجر تنظیموں سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔
اس حوالے سے تحریک انصاف و پختونخوا ملی عوامی پارٹی پشاور کے وفد نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کی قیادت میں آٹھ فروری کو یوم سیاہ کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کے حوالے سے شہر کی مختلف تاجر تنظیموں سے ملاقات کیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos