دنیا کی مقبول ترین ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن ایک ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ جمعے کی صبح بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 14 فیصد کمی دیکھی گئی اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح چھ بجے 62 ہزار 900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہی تھی۔
یہ گراوٹ گزشتہ ہفتے کے آخر میں شروع ہونے والے نقصان کے تسلسل کا حصہ ہے، جب بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی تھی۔ تازہ کمی کے بعد بٹ کوائن رواں سال کے آغاز سے اب تک اپنی مجموعی قدر کا تقریباً ایک تہائی کھو چکی ہے۔
بٹ کوائن میں تیزی اس وقت دیکھی گئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد یہ توقعات پیدا ہوئیں کہ واشنگٹن کرپٹو کے حق میں نرم ضابطہ کار اپنائے گا۔ انہی امیدوں کے باعث دسمبر 2024 میں بٹ کوائن پہلی بار ایک لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچی تھی۔
تاہم اکتوبر میں ایک لاکھ 27 ہزار ڈالر سے زائد کی تاریخی بلند ترین سطح چھونے کے بعد سے ڈیجیٹل اثاثہ مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجوہات جغرافیائی اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہیں۔
امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ڈیجیٹل اثاثوں کے ضابطہ کار سے متعلق بل بھی بینکوں اور کرپٹو کمپنیوں کے اختلافات کے باعث سینیٹ میں تعطل کا شکار ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل بھی امریکی کانگریس کی توجہ میں آ گئی ہے، جب وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ابو ظبی کے ایک عہدیدار کے نمائندوں نے کمپنی میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے۔
بٹ کوائن میں تازہ گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اسٹاکس اور کموڈیٹیز میں بھی شدید فروخت دیکھی جا رہی ہے۔ وال اسٹریٹ کا ایس اینڈ پی 500 بدھ کو 1.2 فیصد نیچے آیا، جبکہ نیس ڈیک کمپوزٹ میں تقریباً 1.6 فیصد کمی ہوئی۔
ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے شیئرز آف آورز ٹریڈنگ میں 11 فیصد سے زیادہ گر گئے، جب مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے نے ٹیک ببل کے خدشات کو جنم دیا۔
ایشیا پیسیفک میں جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً 5 فیصد گر گیا، جبکہ آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 200 اور جاپان کا نکی 225 بالترتیب 1 فیصد اور 1.6 فیصد نیچے آئے۔
قیمتی دھاتیں بھی، جو 2025 میں بڑی تیزی کے بعد شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں، مسلسل دباؤ میں ہیں۔ سونا جمعرات کو 4 فیصد سے زائد کمی کے بعد تقریباً 4 ہزار 720 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ چاندی کی قیمت میں ایک موقع پر 18.5 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی اور یہ 69 ڈالر کے قریب آ گئی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos