وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ ہوا ہے ، جس کے نتیجے میں31 افراد شہید ہوگئے ہیں جب کہ 169زخمی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکا امام بارگاہ خدیجہ الکبری کے مرکزی ہال کے دروازےپر ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نفری اور بم ڈسپوزل اسکواڈ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔اہل علاقہ کی بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پہلے 15 اور پھر 24 افراد شہید ہونے کی تصدیق کی۔ اس کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے 31 افراد شہید ہونے کا بتایا۔
انہوں نے لکھا، ـ’’دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافہ, مجموعی طور پر 31 افراد جاں کی بازی ہار گئے، دھماکے کے بعد ہسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 169 ہو گئی۔‘‘
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں امام بارگاہ کےمرکزی ہال اور باہر احاطے میں زخمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے میں عمارت بڑی حد تک محفوظ رہی البتہ مرکزی ہال کے دروازے پر نقصان کے آثار ہیں۔بظاہر خودکش بمبار کو مرکزی ہال کے دروازے پر روکنے کی کوشش کی گئی۔
جائے وقوعہ سے امت ڈیجٹل کے رپورٹر وقاص چوہدری نے بتایا کہ دھماکہ مرکزی ہال کے مین گیٹ کے باہر ہوا جہاں دو اضافی صفیں بچھی ہوئی تھیں۔۔ اس لیے گیٹ کے باہر جانے نقصان زیادہ ہوا ہے۔
زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
تین بجے تک 20 زخمی پولی کلینک اور 70 پمز اسپتال میں لائے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے اور جڑوں شہروں کے دیگر اسپتالوں میں بھی منتقل کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے کے بعد لوگ اپنے پیاروںکو تلاش کرتے رہے۔
انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو خون کے عطیات کیلئے پمز اور پولی کلینکاسپتال پہنچے کی اپیل کی گئی۔ بڑی تعداد میں زخمی ان اسپتالوں میں منتقل کیے گئے ۔
عینی شاہدین کے مطابق نماز جمعہ کے دوران پہلی رکعت کے بعد فائرنگ کی اواز ائی جب حملہ اور کو مرکزی گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ عین اس وقت ہوا جب دوسری رکعت کا سجدہ جاری تھا۔
امام بارگاہ خودکش دھماکے میں آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کزن بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا جو والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔جائے وقوعہ پر موجود علامہ بشارت حسین امام کا کہنا تھا کہ آئی جی نے اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیز کی میت ایمبولنس میں رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور دہشت گردوں کی سازش ناکام بنا دیں گے۔۔
ادھر کراچی میں مجلس وحدت مسلمین نے شام سات بجے احتجاجی ماتمی ریلی کا اعلان کیا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos