فائل فوٹو
فائل فوٹو

سیکیورٹی اہلکاروں اور خودکش بمبار میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا،علامہ بشارت حسین امامی

اسلام آباد:قائد ملت جعفریہ پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ بشارت حسین امامی نے ہنگامی پریس کانفرنس  کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور خودکش بمبار کے درمیان ہونے والے فائرنگ کے تبادلے اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

علامہ بشارت حسین امامی نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جان پر کھیل کر ایک بڑے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔خودکش بمبار نے سیکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم الرٹ اہلکاروں نے اسے روک لیا۔

انھوں نے بتایا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور کو ٹھکانے لگا دیا گیا، جس سے سینکڑوں قیمتی جانیں محفوظ رہیں۔

انہوں نے اہلکاروں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ "ہمارے جوان ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خودکش حملے اور معصوم انسانوں کا خون بہانا اسلام اور انسانیت کے خلاف ہے۔

انہوں نے حکومت اور مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں اور عوامی مقامات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جائے تاکہ دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے۔

 علامہ امامی نے عوام پر زور دیا کہ وہ متحد رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری حکام کو اطلاع دیں۔

علامہ بشارت حسین امامی نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، یہ عناصر ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن قوم اور سیکیورٹی ادارے مل کر انہیں شکست دیں گے۔

علامہ امامی نے اعلان کیا کہ وہ اس واقعے کے حوالے سے دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے تاکہ دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ بیانیہ تشکیل دیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔