ترلائی امام بارگاہ خود کش حملہ آورکی والدہ اسلام آباد سے گرفتار
داعش افغانی ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار پہلے ہی زیرحراست ہیں
اسلام آبادترلائی امام بارگاہ خودکش حملے کی تحقیقات میں ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور کی والدہ کو اسلام آباد سیکٹر ایف 10سے گرفتار کر لیا گیا،جو گزشتہ روز اسلام آباد پہنچی تھیں۔
تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور حملے سے قبل اپنی والدہ سے رابطے میں تھا اور اس نے حملے سے پہلے والدہ سے اجازت مانگی،ملزم نے آخری بار موبائل فون کال پر والدہ سے رابطہ کیا۔
قبل ازیں،سیکیورٹی اداروں نے کارروائیاں کرتے ہوئے حملہ آور کے چار سہولت کاروں کو گرفتار کیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے، جن کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے امتزاج سے ممکن ہوئیں، جبکہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے داعش سے وابستہ افغان ماسٹر مائنڈ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور انتہا پسندانہ ذہن سازی افغانستان میں کی گئی، جہاں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان عناصر کو افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے، جو خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:۔ ترلائی امام بارگاہ بم دھماکا،ایک اورزخمی دم توڑ گیا
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کے خلاف مزید انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور ذمہ دار عناصر کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔
واضح رہے کہ ترلائی کلاں کی امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 33 افراد جاں بحق جبکہ 162 زخمی ہوئے تھے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:۔دہشت گردی کی واپسی کے پیچھے پی ٹی آئی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات
دوسری جانب چین، امریکا، روس، کینیڈا، جرمنی، ایران، آسٹریلیا، بھارت، یورپی یونین اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔