داعش خراسان نے ترلائی دھماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے ترلائی میں جمعے کی نماز کے دوران مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اجتماعی نماز جنازہ صبح 10 بجے سیکٹر جی نائن میں واقع جامعہ الصادق اور 11 بجے ترلائی میں ادا کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق دھماکے میں کم از کم 31 افراد جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق داعش خراسان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر مسجد پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واقعے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ دھماکہ جمعے کو دن 1 بج کر 42 منٹ پر وقوع پذیر ہوا۔ ان کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا، حملہ آور افغان شہری نہیں تھا، تاہم اس کے افغانستان جانے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ اس حملے میں آئی جی اسلام آباد کے فرسٹ کزن بھی جان کی بازی ہار گئے۔ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ یہ دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں اور مسلمانوں کو مذہب یا لسانیت کے نام پر قتل نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران دیگر ممالک کو ثبوت فراہم کیے گئے ہیں کہ یہ حملہ بھارت کی پشت پناہی سے ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور قانون کے مطابق ان سے نمٹا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے یقین دلایا کہ مسجد میں حملے کے ذمہ داروں کو بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ واقعے کی تفصیلی رپورٹ 72 گھنٹوں میں جاری کی جائے گی اور کچھ متعلقہ افراد بھی حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔