وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ داعش کی تمام فنڈنگ بھارت کر رہا ہے۔ اسلام آباد دھماکے کا ماسٹر مائنڈ داعش سے ہے اور ہماری حراست میں ہے ۔واقعے کے بعد آپریشن کر کے پشاور اورنوشہرہ سے کچھ سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا۔اس دوران ہمارا ایک پولیس اہلکار شہید بھی ہوا۔
اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہناتھاکہ حملہ آور نے افغانستان میں تربیت حاصل کی اور داعش کا ایک اہم کارندہ اسے لے کر پاکستان آیا۔ حملے کی ساری منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔ہمارے پاس سارے ثبوت موجود ہیں۔وزیر داخلہ کے مطابق افغانستان میں دہشت گردی کے 21 نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔۔پاکستان کے سیکیورٹی ادارے فعال اور متحرک ہیں ۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ ہم نے 99دھماکے روکے اور ایک دھماکہ ہوا۔۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اپنا بجٹ تین گنا بڑھا دیا ہے۔لیکن دنیا کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ یہ جنگ اگر کہیں اور منتقل ہوئی تو سب کو تکلیف ہوگی۔
محسن نقوی نے دعوی ٰکیا کہ اسلام آباد کی مسجد میں دہشت گردی کے ماسٹر مائند کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے جسے حراست میں لیا گیا ہے۔ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی پولیس(سی ٹی ڈی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن کے بعد ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران ایک پولیس اے ایس آئی ہلاک اور تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور حملہ آور کی تربیت افغانستان میں ہوئی۔ دو افراد نے ریکی کی اور حملہ آور کو افغانستان سے یہاں لایا گیا۔وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اتنی امید نہیں تھی کہ ہم اتنی جلدی اس حملے کے سہولت کاروں تک پہنچ جائیں گے۔محسن نقوی نے دعوی کیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش سمیت 21 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، پاکستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے، اس کے تانے بانے افغانستان سے ہی ملتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، بلوچستان، خیبرپختونخوا یا کسی اور جگہ ہمیں کمیونٹی انٹیلی جنس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر شہری بھی ہماری مدد کریں تو ہمیں اس کا فائدہ ہو گا۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک دھماکہ ہو رہا ہے تو ہم 99 روک بھی رہے ہیں، لیکن اس کی تفصیلات ہم سامنے نہیں لا سکتے۔
نیوز کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل میں کمی کا بھی شکوہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جدید امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں ان سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کرنا ہو گی۔محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور منصوبہ بندی انڈیا سے ہو رہی ہے۔ انڈیا سے ان دہشت گردوں کو اہداف دیے جاتے ہیں اور پہلے جہاں 500 ڈالرز دیے جاتے تھے، اب 1500ڈالرز کر دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پاکستانی حکام کے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے دھماکے کی مذمت کی تھی۔بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اپنے سماجی مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے اپنی اندرونی خرابیوں کا ذمہ دار دوسروں پر ڈال کر خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos