پی ٹی آئی کی ملک گیر ہڑتال ناکام کراچی سمیت کئی شہروں میں بازار کھلے رہے

کراچی /پشاور/کوئٹہ (امت نیوز/مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف ملک گیر ہڑتال ناکام رہی ،کراچی تا خیبر پہیہ جام اور مکمل شٹر ڈاؤن کے دعوے دھرے رہ گئے ۔بیشتر شہروں ٹرانسپورٹر اور تاجروں نے کاروبار بند رکھنے سے انکار کردیا ۔خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں مارکیٹیں کھلی رہیں ۔چند شہروں میں احتجاج کیا گیا۔ مارکیٹیں جزوی طور پر بند رہیں جبکہ کوئٹہ میں کچھ مقامات بازار بند رہے ۔شہر قائد میں دن بھر مارکیٹیں کھلی رہیں ۔کئی روز سے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور تحریک تحفظ آئین کی جانب سے عوام سے ہڑتال کی اپیل کی جارہی تھی ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج پارٹی کے بانی عمران خان کی کال پر کیا جا رہا ہے، جس میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام شامل ہے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرنا اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ کرنا ہے۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آٹھ فروری کو ملک بھر میں پرامن شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی ہے، جس کی تحریک انصاف نے مکمل حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دن دکانیں، کاروبار، بازار اور ٹرانسپورٹ بند رکھے جائیں گے۔ جب کہ ایک ویڈیو پیغام میں شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہڑتال سے قبل گھریلو راشن اور ادویات کا بندوبست کر لیں اور ہنگامی صورتحال کے لیے پاور بینک، ٹارچ اور اضافی بیٹریاں ساتھ رکھیں۔خیبر پختونخوا، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت قائم ہے، وہاں مختلف سرگرمیاں دیکھنے میں آ ئیں ۔ تاہم، پی ٹی آئی کی کال پر جزوی ہڑتال نظر آئی اور پہیہ جام نہ ہو سکا۔پشاور کے علاقے صدر، شفیع مارکیٹ، فوارہ چوک، نوتھیہ بازار، شعبہ بازار میں دکانیں کھلی رہیں۔ فردوس، باچا خان چوک، چوک ناصر خان، سرکلر روڈ، کوہاٹی گیٹ اور کوچی بازار پر بھی تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ جبکہ ہشت نگری، سکندر پورہ، اشرف روڈ، چوک یادگار اور قصہ خوانی بازار بند رہے۔پشاور شہر کے دو بڑے بس اڈے حاجی کیمپ اڈہ اور لاہور اڈہ کھلے رہے، تایم، بس اڈوں میں گاڑیاں معمول سے کم دکھائی دیں۔ بی آر ٹی کے تمام روٹس پر بھی بسیں رواں دواں ہیں۔بنوں میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی کال پر پہیہ جام ہڑتال کی گئی جہاں تمام بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ بنوں کے مختلف علاقوں سے پی ٹی آئی کارکنوں کی ریلیاں بھی نکالی گئیں ۔ادھر ہنگو میں صورتحال قدرے مختلف رہی، جہاں پی ٹی آئی کارکن اپنے منتخب ایم پی اے اور ایم این اے کی عدم موجودگی پر سراپا احتجاج ہیں۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ احتجاج کی کال کے باوجود پارٹی کے منتخب نمائندے موقع پر نہیں آئے، جس کے باعث احتجاج مؤثر نہ ہو سکا۔ کارکنان گھروں کو واپس چلے گئے ۔ہری پور میں تحریک انصاف کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام دیکھنے میں آیا۔ تمام تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹ یونینز نے ہڑتال کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں شہر کے تمام بازار اور ٹرانسپورٹ اڈے بند رہے۔ٹرانسپورٹ بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب وادی تیراہ سے متاثرین کی نقل مکانی کی وجہ سے پی ٹی آئی نے باڑہ میں ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع اورکزئی میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی کال پر شٹرڈاؤن ہڑتال ناکام ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق، لوئر اورکزئی میں بازار کھلے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔مالاکنڈ میں بھی پی ٹی آئی کی کال پر ہڑتال ناکامی سے دوچار ہوئی، صوبائی صدر جنید اکبر اپنے حلقے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کرانے میں ناکام رہے۔مالاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ شہر، درگئی، سخاکوٹ اور تھانہ میں تمام بازار کھلےر ہے ۔ خیبر کی تحصیل لنڈیکوتل میں پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال مسترد کردی گئی اور تمام دکانیں اور مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی رہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں اور تاجر برادری نے ہڑتال مسترد کرتے ہوئے تمام بازار کھلے رکھے۔مرکزی انجمن تاجران کے سینئر نائب صدر چوہدری جمیل احمد کا کہنا ہے کہ شعبان اور رمضان کاروبار کا سیزن ہے، سیاسی جماعتیں حالات دیکھ کر فیصلے کریں، ہڑتال کے بجائے معاشی حالات کو مدنظر رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔دریں اثنا کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، اس دوران کاروباری مراکز بند رہے، سڑکیں ویران تھیں جبکہ پولیس نے سڑکیں بلاک کرنے اور دکانوں کو زبردستی کرنے والے درجنوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔