5رہنماؤں کو پھانسی دلانے کے بعد بھارت کے جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے رابطے

 

بھارت نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے ساتھ بھی مسلسل رابطے قائم کررکھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بھارتی حکام نے نہ صرف گذشتہ سال 4 مرتبہ پارٹی کی قیادت سے رابطہ کیا،بلکہ حال ہی میں ،ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں یوم جمہوریہ کی تقریب کے لیے بھی جماعت اسلامی کودعوت دی گئی۔

 

مبصرین کاکہناہے کہ بھارت ،شیخ حسینہ واجد کااقتدارختم ہونے کے بعد ایک بارپھر بنگلہ دیش میں اثرورسوخ حاصل کرنے اور ڈھاکہ میں برسراقتدار حکومت سے تعلقات کوبہتربنانے کی کوششیں کررہاہے۔

 

2015 سے2019کے برس بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کیلئے بہت بڑی آزمائش تھے۔ 1971 میں پاکستان بچانے کی کوشش پر بھارت اسے حسینہ واجد کے ہاتھوں سزا دلا رہا تھا۔ ستر اور اسی برس کے بزرگ رہنماؤں کوایک متنازع ٹربیونل سے فیصلے لے کر پھانسی پر لٹکایا جا رہا تھا۔2013 میں عبدالقادرملا،2015 میں علی احسن محمد مجاہد،2016میں میرقاسم علی،مطیع الرحمان نظامی،محمد قمرالزمان کو پھانسی دی گئی تھی۔

 

شیخ حسینہ واجد کے طویل دورحکومت میں بنگلہ دیش ایک بھارت نوازملک بن کرسامنے آیاتھا۔اس دوران بنگلہ دیش میں بھارت مخالف جذبات میں مسلسل اضافہ ہوا۔بھارت نے جماعت اسلامی کے رہنمائوں کوسزائے موت دینے کے معاملے پر بھی حسینہ واجد حکومت کی حمایت کی تھی۔

 

بنگلہ دیشی سیاسی ماہرین کے مطابق اگر آپ بنگلہ دیشیوں سے پوچھیں کہ وہ15 سال سے آزادانہ ووٹ کیوں نہیں ڈال سکے تو اکثر کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ کے آمرانہ طرز حکمرانی اور بھارتی حمایت کے باعث ۔ بنگلہ دیش کے عوام یہ بھی کہتے ہیں کہ حسینہ کو ہمیشہ بھارت نے سہارا دیا۔2024میں عوامی لیگ کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات بری طرح بگاڑکاشکارہوگئے۔

 

اب اسی بھارت نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سے رابطے قائم کرلیے ہیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے دوران جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیموں نے وطن عزیز کو دولخت ہونے سے بچانے کیلئے جو کوششیں کی وہ ڈھکی چھپی نہیں۔ جماعت اسلامی کے نوجوان پاکستان کی مسلح افواج کا ساتھ دے رہے تھے۔ وہ مسلح افواج جو ان کی اپنی تھیں۔ لیکن بنگلہ دیش میں بھارت نواز لابی نے ان کوششوں کو جرم اور غداری بنا دیا۔ اور پھر جب بھارت کی چھتری میں حسینہ واجد کی حکومت مضبوط ہوئی تو ڈھاکہ ٹریببونلز میں ان لوگوں پر مقدمے چلے جو بوڑھے ہو چکے تھے۔

 

2008 میں عوامی لیگ کی حکومت قائم ہونے کے بعد وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے جماعت اسلامی کے5رہنمائوں کو پھانسیاں دی تھیں۔ان پر 1971 کی پاک،بھارت جنگ کے دوران ،پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کے الزامات لگائے گئے ۔

 

حسینہ کا بے لگام اقتدار 2024 میں ختم ہوگیا۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے پاؤں اکھڑ گئے اور اس نے اب جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، بھارتی حکام نے نہ صرف گذشتہ سال 4 مرتبہ پارٹی کی قیادت سے رابطہ کیا،بلکہ حال ہی میں ،ڈھاکہ کے ایک ہوٹل میں یوم جمہوریہ کی تقریب کے لیے بھی جماعت اسلامی کودعوت دی گئی۔مبصرین کاکہناہے کہ بھارت ،شیخ حسینہ واجد کااقتدارختم ہونے کے بعد ایک بارپھر بنگلہ دیش میں اثرورسوخ حاصل کرنے اور ڈھاکہ میں برسراقتدار حکومت سے تعلقات کوبہتربنانے کی کوششیں کررہاہے

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔