رمضان سے قبل افغانستان میں کارروائی کا امکان ہے:خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے عندیہ دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تناظر میں افغانستان سے متعلق اہم فیصلے کر سکتا ہے، اور ممکنہ کارروائی کا وقت رمضان سے قبل بھی ہو سکتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا سلسلہ رکا نہیں اور پاکستان کو جلد ردعمل دینا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی وقت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم حالات کے مطابق فوری اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مختلف سطحوں پر رابطے اور بات چیت جاری ہیں، مگر پاکستان اس صورتحال کو نظرانداز نہیں کر سکتا کہ ایک طرف مذاکرات ہوں اور دوسری جانب سرحد پار سے حملے جاری رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

وزیر دفاع کے مطابق افغان عبوری حکومت سے کسی نہ کسی سطح پر رابطہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر علاقائی ممالک مشترکہ ضمانت اور تعاون کا فریم ورک طے کریں تو امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جس میں معاشی معاونت جیسے پہلو بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔

ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سویلین حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔ ان کے بقول سیکیورٹی فورسز قربانیاں دے رہی ہیں اور تمام اداروں کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وفاق اور صوبے دہشت گردی کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔