بنگلا دیش سے بھارت آئوٹ کیوں ہوا؟

تجزیہ کار حبیب اکرم نے بنگلہ دیش میں بھارتی اثر و رسوخ کے خاتمے اور پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ اقتدار میں بنگلہ دیش کو بھارت کی ایک "باج گزار ریاست” کے طور پر چلایا گیا۔ ان کے بقول، حسینہ واجد کو ہر دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہوتی تھی، جس کی وجہ سے وہاں پاکستانیوں اور پاکستان نواز طبقے پر زمین تنگ کر دی گئی تھی۔

حبیب اکرم کے مطابق بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت کے نام پر اسے معاشی طور پر کمزور کیا، اپنا ناقص سامان وہاں کھپایا اور بنگلہ دیش کی اپنی صنعت کو پنپنے نہیں دیا تاکہ وہ مسلسل تجارتی خسارے کا شکار رہے۔ بھارت کا اصل مقصد بنگلہ دیش کو دبا کر رکھنا تھا تاکہ اس کی اپنی سات مشرقی ریاستیں (Seven Sisters) محفوظ رہ سکیں۔

تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ اب بنگلہ دیش کے عوام نے بھارت کے اس تسلط کو مسترد کر دیا ہے اور حقیقت کو جان لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 1971 کے واقعات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان قربت ہمیشہ سے موجود رہی ہے، اسی لیے اب پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اصل حیرت اس بات پر ہونی چاہیے تھی کہ ایک پڑوسی ملک نے اتنے عرصے تک بنگلہ دیش کے معاملات میں اس قدر مداخلت کیسے برقرار رکھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔