سینٹ کمیٹی میں اونٹ گھس گیا۔ 15منٹ تک اودھم برپا

 

سینیٹ کمیٹی میں اونٹ گھس گیا ، پورے 15منٹ تک موجود رہا ۔ اس دوران ارکان الجھتے رہے۔ اونٹ کی دیکھ بھال اور اس کی فلاح وبہبود پرخوب گرماگرم بحث کی گئی۔پورے چوتھائی منٹ کے بعدایک ماہرنے بتایاکہ ایجنڈاآئٹم کوئی اونٹ نہیں بلکہ یہ ایک ترقیاتی منصوبے کا مخفف CAMELLہے۔ ارکان کو بتایاگیاکہ اس پورے فسانے میں اونٹ کا ذکرہی نہیں بلکہ یہ تھر کا کمیونٹی ایکشن پلان ہے۔

 

یہ ستم ظریفی سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کے اجلاس میں تھر پارکر کے کمیونٹی ایکشن پلان پر بحث کے دوران دیکھنے میں آئی۔سینیٹ کمیٹی میں کمیونٹی ایکشن پلان فار منیجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم لائیوز اینڈ لائیولی ہڈ (CAMELL)پراجیکٹ کو اونٹ سمجھ کر 15منٹ تک اس پربحث ہوئی، بعد میں پتا چلا کہ یہ تھر پارکر کا کمیونٹی ایکشن پلان ہے۔

 

چیئرمین قائمہ کمیٹی مسرور احسن نے کمیونٹی ایکشن پلان فار منیجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم لائیوز اینڈ لائیولی ہڈ (camell)کو camelیعنی اونٹ سمجھ کر بحث کا آغاز کیا۔مسرور احسن نے کہا کہ تھرپارکر میں اونٹوں کے تحفظ اور ان کی بہتری کے لیے کیا کام ہورہا ہے؟ آپ وزرات کو سنجیدہ نہیں لے رہے اس لیے آدھی تفصیلات کے ساتھ آجاتے ہیں۔سینیٹر دنیش کمار نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا ڈی جی کیا تفصیلات بتائیں گے ان کو تو کیمل کے اسپیلنگ بھی ٹھیک سے نہیں آتے۔ وزیر مملکت ملک رشید نے کہا اونٹوں کی افزائش پر کام ہورہا ہے، اگلے اجلاس میں ساری تفصیلات دیں گے۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا 18ویں ترمیم کے بعد ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے پاس اختیارات ہیں بھی کہ نہیں۔

 

15منٹ تک صورت حال کو سمجھنے اور نہ سمجھنے کی کش مکش کے بعد بالآخرممبر پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی)نے ارکان کو بتایا کہ camellپراجیکٹ اونٹ سے متعلقہ نہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کیمل تو ایک ہی ہوتا ہے آپ کس کی بات کررہے ہیں۔ ممبر پی اے آر سی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا یہ کمیونٹی ایکشن پلان کے حوالے سے پروگرام کا مخفف ہے۔

 

15منٹ تک بحث کے بعدجب صورتحال واضح ہوئی تو کمیٹی ارکان کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔