فتنہ الہندوستان کے حق میں بیان نہ دینے پر مسجد کا خطیب اہلخانہ سمیت شہید

نوشکی میں دہشت گردوں نے مسجد کے خطیب امشد علی خان اور ان کے اہلخانہ کو فتنہ الہندوستان کے حق میں بیان دینے سے انکار پر شہید کر دیا۔ واقعہ 31 جنوری 2026 کو پیش آیا، جب دہشت گردوں نے خطیب کے گھر پر حملہ کیا۔ حملے میں خطیب امشد علی خان، ان کی اہلیہ اور تین بچے جان کی بازی ہار گئے۔

40 سالہ خطیب امشد علی خان کا تعلق ضلع کرک سے تھا۔ دہشت گردوں نے انہیں فتنہ الہندوستان کے حق میں بیان دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی، تاہم خطیب نے نہ صرف اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا بلکہ اپنی جان اور اہلخانہ کی قربانی دے دی۔

خطیب کے بھائی نے کہا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کی قربانی پر فخر محسوس کرتے ہیں، اور رشتہ داروں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایسے اقدامات سے حوصلے پست نہیں ہوں گے بلکہ مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔ خطیب کے سابق طلبہ نے بھی اپنے استاد کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ وطن کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے ایک شفیق رہنما اور استاد تھے۔

اہل علاقہ نے کہا کہ خطیب امشد علی خان اپنی قوم اور ملک کے لیے شہید ہوئے اور ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس حملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد دین اسلام سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کا نشانہ عام شہری اور معصوم لوگ ہیں، نہ کہ سکیورٹی فورسز۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔