اسلام ٓآباد:اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اس وقت شدید ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے پارلیمنٹ کے اندر احتجاج اور دھرنا دیا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومتی رویہ غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خان صاحب کی فیملی اور ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دی جائے
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے شکوہ کیا کہ حکومت ہر مسئلے کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہراتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی ہو، دہشت گردی ہو یا سیاسی عدم استحکام، حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے "خان صاحب” کا نام استعمال کرتی ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے سادہ اور قانونی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور پورا پاکستان بند ہو سکتا ہے۔
پارلیمنٹ میں ہونے والے اس احتجاج نے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ وہ عمران خان کے علاج اور حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنے قائد اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں ایوانِ صدر کے باہر ایک بھرپور احتجاجی دھرنا دیا ہے۔
دھرنے کے دوران شرکا "عمران خان زندہ باد” اور "آئین بچانے نکلے ہیں، آؤ ہمارے ساتھ چلو” جیسے جوشیلے نعرے لگاتے رہے،دھرنے میں شریک اراکین کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی فوری رہائی ہے۔
اراکینِ پارلیمنٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ملک اور آئین کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ملک بچانے نکلے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹ ایوانِ صدر کے سامنے سیڑھیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos