غزہ میں فوج بھیجنا کسی صورت قبول نہیں۔جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے امن بورڈ مسترد کر دیا

  1. جمعیت علمائے اسلام ف اور جماعت اسلامی نے غزہ امن بورڈ اور پاکستان کی اس میں شمولیت کو مسترد کردیا۔
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 19فروری کو غزہ امن بورڈ کا اجلاس ہونے جارہا ہے، 70ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کا خون بہایا گیا ہے، فلسطینیوں کے ساتھ عالمی قوتیں مذاق کر رہی ہیں۔
بورڈ آف پیس کا اجلاس اصل میں اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہے، یہ عالمی ادارے کی افادیت کو چیلنج کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کہہ چکی ہے، ایجنڈے میں تبدیلی لائی گئی تھی، اس کے باوجود اس فورم پر جانا ٹھیک نہیں، نیتن یاہو قاتل اور سفاک ہے، لاکھوں لوگوں کو قتل کیا گیا اور فلسطینیوں کی لاشیں اب بھی کھنڈرات میں دبی ہوئی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ عیدالفطر کے بعد ملک گیر عوامی تحریک چلائیں گے، ہم چاروں صوبوں میں جائیں گے، جے یوآئی نے 12 تاریخ کو مردان میں ملین مارچ کا اعلان کیا ۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملاقات میں ملکی اور بین الاقوامی سیاسی صورت حال پر گفتگو ہوئی، ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے اجلاس پر ہمیں تشویش ہے، پاکستان نے امن بورڈ کی رکنیت لے لی ہے جس میں اسرائیل بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھتے ہیں کیا آپ اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں، انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے بارے میں ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان کو اس میں شامل ہونے کا کہا جائے گا، یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی فورس اس فورس کا حصہ بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں امن وامان کی صورت حال پر بات کی ہے، پاکستان کو کسی ایسی جنگ میں نہیں جانا چاہیے جس سے پاکستان کو فائدہ نہ ہو، پاکستان نے بورڈ کا ممبر بننا قبول کیا اور شرکت کی دعوت بھی قبول کی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ حکومت غزہ میں فوج بھیجے گی، کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان آئی ایس ایف کا حصہ بنے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔