امریکا ایران کیخلاف طویل فوجی آپریشن کی تیاری کررہا ہے،امریکی عہدیداروں کا دعویٰ

امریکی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف طویل اور مسلسل فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے کہا کہ اس بار کی منصوبہ بندی پیچیدہ ہے اور مہم امریکی افواج اور مشرق وسطیٰ کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق امریکا ایران کے جوہری انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ اور سکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا، اور توقع ہے کہ ایران جوابی کارروائی کرے گا۔

دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اگر امریکا حملہ کرے تو کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای اور ترکی میں فوجی اڈے موجود ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، جبکہ ہزاروں فوجی، جنگی جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی علاقے میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف اس طرح کی کارروائی امریکی افواج کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ ایران کے پاس طاقتور میزائل ہتھیار موجود ہیں، اور ممکنہ جوابی حملوں سے علاقائی تنازع بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ قومی سلامتی کے بہتر مفاد میں حتمی فیصلہ کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مشکل رہے ہیں اور کبھی کبھی ڈر کا استعمال صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔