چینی ماڈل کے ساتھ تصاویرکے بعد شہزادہ اینڈریو پر غداری کا الزام
لندن (فارن ڈیسک ) برطانوی شہزادہ اینڈریو کے بارے میں سامنے آنے والی ایپسٹین فائلز کے بعد ان پر غداری کا الزام لگ گیا ہے، اور وہ ممکنہ طور پر شاہی خاندان سے تعلق رکھنےوالی پہلی شخصیت بن سکتے ہیں، جنہیں پولیس گرفتار کرسکتی ہے، شاہ چارلس پہلے ہی ان سے شہزادہ کاخطاب واپس لے چکے ہیں، تاہم نئی تفصیلات میں ان کے چینی ماڈل سے تعلقات و تصاویر سامنے آنے سےان کے خلاف طوفان مزید شدت اختیار کرگیا ہے، اور بطور برطانوی تجارتی ایلچی ان کے کردار کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق اینڈریو نے ایپسٹین کے کہنے پر اپنی سرکاری حیثیت اور ٹیکس دہندگان کے فنڈ سے چلنے والے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے اس کے کاروباری مفادات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔“ایپسٹین فائلز” میں شامل ای میلز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اینڈریو نے چین کے ایک سرکاری تجارتی دورے کے دوران ایپسٹین کو اپنے لیے ملاقاتوں کا انتظام کرنے کی اجازت دی۔ دستاویزات میں شامل نئی تصاویر میں انہیں بیجنگ میں ایک خفیہ عشائیے کے دوران ایک چینی ماڈل کے ساتھ میل جول کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان انکشافات کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ اینڈریو کے تجارتی ایلچی کے دور کا سرکاری ریکارڈ جاری کیا جائے، اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ آیا انہوں نے سرکاری معلومات ایپسٹین تک پہنچا کر اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔شیڈو ہوم سیکریٹری کر س فلپ کا کہنا ہے اینڈریو نے بارہا برطانیہ کے مفادات کو نقصان پہنچایا ۔ حکمران لیبر پارٹی کے معاون نے بھی اینڈریو کے بطور تجارتی ایلچی طرزِ عمل کو “سنگین غداری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے برطانیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے اثرات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات ضروری ہیں۔