ایپسٹین صدر کلنٹن کےہمراہ دوروں میں بھی لڑکیاں بھرتی کرتا رہا

February 16, 2026 · امت خاص

واشنگٹن (فارن ڈیسک)جیفری ایپسٹین کے استحصال کا شکار ہونے والی خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن کے جنوبی افریقہ کے دورے کےدوران ایپسٹین نے اسے ماڈل بنانے کا لالچ دے کر گھیرا، اور امریکہ بلوایا، جس کےبعد اس کے استحصال کا طویل عرصہ شروع ہوا، متاثرہ خاتون جولیٹ برینٹ نے اسکائی نیوز سے انٹرویو میں روتے ہوئے بتایا کہ امریکہ پہنچنے پر جیسے ہی ایپسٹین کا نجی طیارہ، جسے عرفِ عام میں “لولیتا ایکسپریس” کہا جاتا تھا، فضا میں بلند ہوا تو چند لمحوں میں ہی ایپسٹین نے زبردستی نامناسب طریقے سے چھونا شروع کر دیا۔ میری عمر اس وقت 20 سال تھی، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں، طیارے میں موجود دیگر خواتین، جو ایپسٹین کے لیے کام کرتی تھیں، اس دوران ہنس رہی تھیں۔ مجھے لگا “یہ لوگ مجھے مار بھی سکتے ہیں”، جس کے بعد انہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے خود کو دوستانہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ نیویارک پہنچنے کے فوراً بعد انہیں نیو جرسی کے ائیر پورٹ لے جایا گیا، جہاں انہیں بتایا گیا کہ وہ کیریبین میں واقع ایپسٹین کے نجی جزیرے جا رہی ہیں۔ ان کا پاسپورٹ لے لیا گیا اور وہ جزیرے پر پھنس کر رہ گئیں، جہاں اگلے 2 برسوں تک انہیں بار بار ایپسٹین کے ہاتھوں استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہیں دوسرے افراد کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ بعد میں ایپسٹین نے انہیں لڑکیوں کو بھرتی کرنے کے بدلےدو ہزار ڈالر اور اپنے ساتھ رہنے کے لیےچار ہزار ڈالر ماہانہ دینے کی پیشکش کی، مگر انہوں نے یہ پیشکش مسترد کر دی کیونکہ وہ اس کے قریب نہیں رہنا چاہتی تھیں۔امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ تازہ دستاویزات میں جولیٹ برائنٹ کی بغیر حذف شدہ ای میلز بھی شامل ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا ایپسٹین سے رابطہ 2017 تک برقرار رہا۔ ان کے مطابق انہوں نے بعض اوقات ذہنی دباؤ یا نشے کی حالت میں ای میلز بھیجیں اور انہیں محسوس ہوتا تھا کہ ایپسٹین ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھرتیاں