سعودی عرب میں 100 کلومیٹر مصنوعی دریا۔اس کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟

February 16, 2026 · چشم حیرت

 

سعودی دارالحکومت ریاض کے صحرائی علاقے میں 100 کلومیٹر مصنوعی دریا بنایا جارہاہے۔یہ دریا سیوریج کے پانی کو صاف کرکے وجود میں آئے گا۔اس کی مدد سے فصلوں کی آب پاشی میں مددملے گی۔ نخلستان وجود میں آئیں گے اورنئے ماحولیاتی نظاموںکی نشوونما ہوگی۔

مصنوعی دریاریاض کے میٹروپولیٹن علاقے میں سے گذرتی 120 کلومیٹر طویل وادی حنیفہ کے اندر ہے۔

سعودی عرب ان شہروں میں جہاں دریا اور جھیلیں کم ہیں، سیوریج کے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیراہے۔اس کامقصد آب نوشی کے سوادیگر مقاصد کے لیے پانی فراہم کرناہے تاکہ قدرتی ذرائع پر دبائو کم ہو اور ان راستوںمیں پانی کا بہائو برقرار رہے جو شہروں کے پھیلائو سے پہلے ہی متاثرہیں۔

ماہرین کے مطابق اس قسم کے حل کا انحصار ایک مسلسل آپریشنل عمل پر ہوتا ہے، جس کا آغاز کھپت سے ہوتا ہے اور یہ ٹریٹمنٹ سے گزر کر دوبارہ ماحول میں کنٹرولڈ واپسی پر ختم ہوتا ہے۔جب اس عمل میں خامیاں پیدا ہوتی ہیں، تو یہی انفراسٹرکچر صحت اور ماحول کے لیے خطرات کا مرکز بن سکتا ہے، اسی لیے ریگولیشن اور نگرانی کو اس منصوبے کا مرکزی حصہ بنایا گیا ہے۔

بنجر علاقوں میں ایسے منصوبوں کا مقصد پانی کے ضیاع کو کم کرنا اور ضائع شدہ پانی کی مقدار کو دوبارہ قابل استعمال بناناہے، جس کے لیے پانی جمع کر کے دوبارہ تقسیم کرنے کے نظام کو یکجا کیا جاتا ہے۔

یہ منصوبہ صحرائی ماحول میں میگا انجینئرنگ کی ایک شاندار مثال ہے۔