وہ ملک جہاں سے روشن فانوس اوردسترخوان کی تصویر ماہ رمضان کی عالمگیر پہچان بنی
رمضان کے مبارک مہینے کی ایک خاص علامت روشن فانوس ہے ۔یہ کوئی رسمی یامحض روایتی تصویرنہیں بلکہ اس کا ایک زمینی اورتاریخی پس منظرہے۔اسلامی آثارقدیمہ کے ماہرنے عرب میڈیاکو بتایاکہ اہل مصرنے اپنی طویل تاریخ میں روزے کے سادہ اور واضح مفہوم سے آگے بڑھ کر رمضان کو ایک جشن کے مہینے میں بدل دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہینے میں خوشی کے مظاہرکوشامل کرنا، جیسے فانوس روشن کرنا، گلیوں کو سجانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا، کوئی عارضی بات نہیں بلکہ یہ دینِ اسلام کی روح کے بارے میں خاص مصری فہم کی عکاسی کرتا ہے۔ مصریوں کے ہاں یہ مہینہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کے لیے آیا تھا، لہٰذا روشنی فانوس، چراغاں اور جشن کی صورت میں علامت کے طورپرموجودہے۔
فاطمی خلافت کے دور سے رمضان کی راتوں میں گلیوں کو روشن کرنے کی تاریخ ملتی ہے جب قاہرہ کو اس مقدس مہینے کے استقبال میں روشن کیا جاتا تھا۔ اس روش نے روشنی اور فانوس کی روایت کو پختہ کیا جو بعد میں مصر میں رمضان کی اہم ترین علامتوں میں سے ایک بن گئی۔
ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ قریب آتے ہی مصر کے مختلف صوبوں میں گلیوں اور گھروں کے نقشے بدل جاتے ہیں اور اس ماہ صیام کی آمد کا اعلان کرتے ہیں جس کا لاکھوں لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ گلیاں روشن فانوسوں سے سج جاتی ہیں، بالکونیوں کے درمیان رنگ برنگی جھنڈیاں لٹکائی جاتی ہیں اور بازار اس مقدس مہینے کی تیاریوں سے بھر جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو ہر سال دہرایا جاتا ہے لیکن اس کی چمک اور گرمجوشی کبھی کم نہیں ہوتی۔
مصر کی پہچان رمضان کا وہ منفرد ماحول ہے جو صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والی عادات و روایات سے بنا ہے جہاں روحانیت عوامی خوشی کے ساتھ مل جاتی ہے۔ مصر میں روزوں کا مہینہ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشرتی کیفیت ہے جو باہمی تعاون، موائد الرحمن کے نام سے دستر خوانوں، افطار کی توپ اور خاندانی محفلوں میں نظر آتی ہے۔ یہ کیفیت اس مہینے کو ایک خاص رنگ دیتی ہے اور اسے سال کے باقی مہینوں سے ممتاز اور سب کے لیے ایک منتظر موقع بنا دیتی ہے۔
مصر میں رمضان المبارک کے ماحول کی انفرادیت مصریوں کے 1000 سال سے زائد عرصے پر محیط رمضان کے گہرے فہم سے جڑی ہوئی ہے۔ مصریوں نے اس ماہ مقدس کو صرف ایک مذہبی فریضے یا عبادتی رسم کے طور پر نہیں لیا بلکہ اسے ایک تہذیبی جہت اور خاص شناخت دی جس نے اس کے مختلف خدوخال بنائے۔
اس فہم کا ایک نمایاں پہلو سماجی تعاون کے تصور کو راسخ کرنا ہے۔’’موائد الرحمن‘‘کا مظہر مصر میں بہت پہلے شروع ہوا اور عرب اسلامی فتح سے لے کر جدید دور تک صدیوں میں ارتقاء پاتے ہوئے سماجی تعاون کا ایک اہم نمونہ بن گیا۔ یہ دسترخوان محض روزہ داروں کو دیا جانے والا کھانا نہیں تھے بلکہ ایک سماجی اور انسانی پیغام تھا جس میں مسلمان اور غیر مسلم سب شریک ہوتے تھے۔